خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 418

$1954 418 خطبات محمود ہمارے ایک مبلغ کے پاس سینکڑوں کتابیں ہوں تا لوگ وہ کتابیں اپنے گھروں میں لے جا کر ھ سکیں۔کوئی انسان چاہے کتنا ہی مصروف ہو گھر میں اُسے کچھ نہ کچھ فارغ وقت مل سکتا ہے۔لیکن ایسی فراغت کی گھڑیاں بہت کم ملتی ہیں کہ وہ کسی مبلغ کے پاس جا کر گھنٹہ دو گھنٹے تک اُس کی باتیں سن سکے۔پس ہمارے مبلغ تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہم انہیں کافی تعداد میں لٹریچر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لٹریچر کے مطالعہ سے بعض نئے شبہات پیدا ہو سکتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہوتا ہے۔اس کے لیے مبلغ کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جو زبانی مل کر ان اعتراضات کے جوابات دے۔اگر کوئی قوم صرف لٹریچر پر ہی اپنی بنیاد رکھ لیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔مشنری کا ہر ملک میں ہونا ضروری ہے لیکن جب تک لٹریچر نہ ہو وہ کی مشنری اپنا کام وسیع نہیں کر سکتا۔وہ دس ہیں آدمی اپنے گرد اکٹھے کر لے گا لیکن کروڑوں کی اصلاح اُس سے نہیں ہو سکے گی۔کروڑوں کی اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ لٹریچر بڑی تعداد میں شائع کیا جائے اور اسے ملکوں میں پھیلایا جائے۔اور پھر ہر ملک میں مشنری موجود ہی ا ہوں جو ان لوگوں کے شبہات کا ازالہ کریں اور اسلام کے مسائل انہیں سمجھائیں۔امریکہ کی آبادی سولہ کروڑ کی ہے۔فرض کرو وہاں ایک لاکھ شہر اور قصبات ہیں تو اب اگر ہر شہر اور قصبے میں ہمارا ایک آدمی ہو، تب تو کوئی حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر چہ مبلغین کی یہ تعداد بھی کافی نہیں۔لیکن اگر دو دو ہزار میل پر مبلغ بیٹھا ہو اور اُس کے پاس لٹریچر بھی نہ ہو تو لوگوں کی توجہ اُس کی طرف کیسے ہو سکتی ہے۔ہم تو ابھی تک ابتدائی کام بھی نہیں کر سکے۔لیکن اصل کام یہ ہے کہ ہم لٹریچر کو تمام دنیا میں پھیلا دیں تا کہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیا جاسکے۔لٹریچر کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مبلغ ابھی سوئٹزر لینڈ سے آئے ہیں۔وہ مجھے ملنے کے لیے آئے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ اُن کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ انہوں نے کہا آدمی تو بہت تھوڑے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں یعنی ابھی تک صرف دس بارہ آدمی اسلام میں داخل ہوئے ہیں مگر ہم اصل کام اس کو نہیں سمجھتے بلکہ اصل کام ہم اس کو سمجھتے کہ پہلے یورپین لٹریچر میں خلاف اسلام باتیں شائع ہو جاتی تھیں تو اُن کا کوئی جواب