خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 410

خطبات محمود 410 $1954 سے میں جلسہ کے کاموں میں پوری طرح حصہ لے سکوں گا یا نہیں۔پچھلے جمعہ میں نے ربوہ کی جماعت کو جلسہ سالانہ کے لیے اپنے مکانات وقف کرنے کی اور خدمات پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔اس کے بعد مجھے شکایت پہنچی ہے کہ ابھی تک مکانات کا انتظام نہیں ہو سکا۔اس دفعہ جلسہ سالانہ کے منتظمین میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے اور میرا تجربہ ہے کہ چاہے تبدیلی اچھی ہی ہو مگر ایک سال اس تبدیلی کی وجہ سے کام میں کچھ نقائص رہتے ہیں۔پرانے لوگ جو کام کے واقف ہوتے ہیں گو وہ ہوشیار نہ بھی ہوں تب بھی وہ تجربہ کی بناء پر بعض کام کر لیتے ہیں۔نئے آدمی کے ذہن میں وہ باتیں نہیں آسکتیں۔اس لیے ضرورت اس بات کی تھی کہ انتظامات زیادہ کیے جاتے کیونکہ وقت پر کام کرنا مشکل ہے۔لیکن جو شکایت مجھے آئی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ نے بھی اپنے مکانات خالی کر کے نہیں دیئے۔حالانکہ خود صدرانجمن احمد یہ اس جلسہ کی ذمہ دار ہے۔اگر ادارے ہی اپنے مکانات خالی کر کے نہ دیں یا انہیں کسی معتین تاریخ تک خالی کرنے کا وعدہ نہ کریں تو باقی لوگ تو اور بھی سست ہو جائیں گے۔پس میں اداروں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔محض ایک افسر مقرر کر دینے سے کام نہیں ہوتا۔جب تک اُس افسر سے تعاون نہ کیا جائے وہ اپنے مفوضہ فرائض کو کس طرح پورا کر سکتا ہے۔ہوتا اس کے بعد میں جماعت کو تحریک جدید کے وعدوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تحریک جدید کے وعدوں میں اس سال کچھ سستی نظر آ رہی ہے۔تحریک جدید والوں نے جو رپورٹ میرے پاس بھیجی ہے اُس کے لحاظ سے تحریک جدید کے وعدوں میں گزشتہ سال کی نسبت اکیس ہزار کی کمی ہے۔حالانکہ اس سے قبل وعدوں میں ہر سال کچھ نہ کچھ زیادتی ہوتی تھی۔اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ وعدے اب کمی کی طرف جا رہے ہیں۔وعدوں میں یہ کمی زیادہ ترئستی کی وجہ سے ہوئی ہے۔شاید بعض جماعتوں کو یہ عادت پڑ گئی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی فہرستیں جلسہ سالانہ کے موقع پر ساتھ لاتی ہیں۔ممکن ہے کہ اس وقت وعدوں میں کمی جو شکایت ہے وہ اس عادت کی بناء پر ہو کیونکہ اس وقت تک جو وعدے میرے پاس کی