خطبات محمود (جلد 35) — Page 396
$1954 396 خطبات محمود کیونکہ ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو ان دنوں کچھ مالی بوجھ بھی اٹھاتے ہیں۔مثلاً بعض ایسے ہوتے ہیں جو اس موقع پر مہمانوں کا کھانا خود تیار کرتے ہیں یا اگر کھانا انہیں گھر سے نہیں کھلاتے تو انہیں ناشتہ کرا دیتے ہیں۔اس لیے مالی لحاظ سے ان کی قربانی بہت زیادہ کی ہوتی ہے لیکن سلسلہ کو فائدہ بہت کم ہوتا ہے۔پس اگر اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو یہ بوجھ اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ کمروں کا ایک حصہ ایسا ہو گا جس سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکے گا جتنا فائدہ دوسرے کمروں سے اُٹھایا جاتا ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمارے جلسہ سالانہ پر آنے والوں نے ہر سال بڑھتے جانا ہے اور جماعت نے ترقی کرتے جانا ہے سوائے اس کے کہ کسی سال کوئی خاص وجہ پیش آ جائے اور جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے والوں کی تعداد میں کمی آجائے۔مثلاً کسی سال سردی زیادہ بیڑے اور لوگ کم آئیں یا خدانخواستہ کسی بیماری کی وجہ سے آنے والوں میں کمی آ جائے۔اس لیے مکانات کی تعداد میں چاہے زیادتی ہوتی جائے ہمیں مہمانوں کے ٹھہرانے میں پھر بھی پیش آتی رہے گی اور شاید کسی وقت سلسلہ کی مالی حالت اگر اچھی ہو جائے تو وہ مہمانوں کے لیے ایک مستقل اقامت گاہ بنا لے۔مثلاً وہ ایسی بیرکیں بنوا لے جو پختہ ہوں اور اس قدر وسیع ہوں کہ ان میں چالیس پچاس ہزار مہمان ٹھہر سکیں۔اگر اس قسم کی بیر کیں تعمیر کر لی جائیں تو دوسرے کمروں میں ایسے لوگ ٹھہر سکتے ہیں جو اپنے آرام اور سہولت کی خاطر کسی علیحدہ جگہ ٹھہرنا پسند کرتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح جماعت ہر سال ترقی کر رہی ہے اسی طرح دو چار سال میں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد چالیس پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ہو جائے گی۔اور اگر چالیس پچاس ہزار مہمانوں کے ٹھہرنے کے لیے مستقل بیر کیس بھی کی بنالی جائیں تب بھی مہمانوں کے لیے ٹھہرانے میں دقت باقی رہے گی۔بہر حال مستقل بیر کیں کی بنیں یا نہ بنیں چونکہ آنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی جائے گی اس لیے مکانوں کی وقت باقی رہے گی اور یہ دقت شاید قیامت تک یا اُس وقت تک قائم رہے گی جب تک کہ آپ کا ایمان سلامت رہے گا۔آنے والے آئیں گے اور ٹھہرانے والے انہیں ٹھہرائیں گے۔لیکن پھر بھی وہ سب مہمانوں کے لیے جگہ نہیں پائیں گے۔