خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 383

$1954 383 خطبات محمود دنیا میں آئے تو ابتدائی تیرہ سالوں میں اسی نوے یا بعض روایات کے مطابق دوسو تین سو لوگ آپ پر ایمان لائے لیکن آپ کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی تھی۔حبشہ اور نجد تک آپ کی تعلیم پہنچ چکی تھی اور امراء، رؤساء، فقہاء اور بادشاہوں نے آپ کی طرف توجہ شروع کر دی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو آپ کے ماننے والوں کی تعداد ابتدا میں پچاس ساٹھ تھی۔لیکن آپ کی شہرت دُور دُور تک پھیل چکی تھی۔اس کے مقابلہ میں جن لوگوں نے دعوی کیا اُن کو اپنے علاقہ سے باہر کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔اس قسم کے لوگوں کو خواہ پچاس ساٹھ مان بھی لیں ان کے متعلق لوگ یہ احساس بھی نہیں کرتے کہ وہ دنیا میں کوئی تغیر پیدا کر لیں گے۔یہ لوگ روزانہ لکھتے ہیں کہ اب قیامت آ جائے گی لیکن عملی طور پر ایک چار پائی بھی نہیں پلتی اور دنیا میں کوئی منفی یا مثبت تغیر پیدا نہیں ہوتا۔یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ ان کی مثال بھیڑیے کے چمڑے میں بھیٹر کی سی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے اگر چہ تھوڑے تھے لیکن لوگوں میں ان کی وجہ سے گھبراہٹ بہت زیادہ تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی تعلیم دنیا کو کھا جائے گی۔اسی طرح ہماری جماعت کو دیکھ لو مخالف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، عوام کو بھڑکاتے ہیں، فتوے دیتے ہیں لیکن دنیا ڈرتی ہم۔ہی ہے۔اگر چہ ہم انہیں تسلیاں دیتے ہیں اور یہ کہتے کہتے تھک جاتے ہیں کہ ہم تمہارے دشمن نہیں تمہارے خیر خواہ ہیں لیکن پھر بھی وہ تسکی اور اطمینان نہیں پکڑتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تعلیم اس قسم کی ہے کہ جہاں بھی جائے گی لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور اگر ہمارے اردگرد کے لوگوں نے ان کی باتیں سن لیں تو وہ ہمیں چھوڑ کر اس تعلیم کو قبول کر لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے اسلام پر ہر طرف اعتراضات ہو رہے تھے کیا یہودیت اور عیسائیت اور کیا ہندو مذہب ہر ایک کے ماننے والے اسلام پر حملہ آور ہو رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا مقابلہ کیا۔مسلمانوں نے بھی آپ کی مخالفت کی اور یہ نہ سمجھا کہ آپ ان کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔لیکن اب ہماری یہ حالت ہے کہ کوئی ماں کا بچہ ایسا نہیں جو اسلام پر کوئی ނ