خطبات محمود (جلد 35) — Page 371
$1954 371 خطبات محمود پوری کوشش کریں۔اول تو وہ چندہ ایک لاکھ بانوے ہزار کی بجائے اڑھائی لاکھ تک پہنچائیں اور پھر وصولی سو فیصدی نہیں بلکہ اس سے زیادہ کریں۔پہلے دور میں اس قسم کی مثالیں موجود ای ہیں کہ مثلاً وعدہ دو لاکھ کا تھا تو وصولی سوا دولاکھ ہوئی۔جب تک وہ اس روح کو پیدا نہیں کرتے اور جب تک اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے خالی نام کا کچھ فائدہ نہیں۔دنیا میں وہ پہلے ہی بدنام ہیں۔انہیں تسبیح و تحمید کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے لیکن مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی جماعت ہے۔گویا ایک طرف ان کے متعلق یہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور دوسری طرف انہیں خدا تعالیٰ بھی نہ ملے تو اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہوگی؟ پس میں خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ نیا دور خدام کا ہے۔اس میں زیادہ تر حصہ لینے والے انہی میں سے ہیں۔اس لیے ان پر فرض ہے کہ وہ اپنا چندہ بڑھا ئیں اور کوئی احمدی ایسا نہ رہے جو تحریک جدید میں شامل نہ ہو۔دوسری طرف یہ کوشش کریں کہ وصولی سو فیصدی سے زیادہ ہو تا قرضے اُتر کر ریز روفنڈ قائم کیا جا سکے۔ہم نے اپنا کام وسیع کرنا ہے۔پہلے تو ہم پیج بکھیر رہے تھے اور کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ہم بے انتہا لٹریچر پیدا کریں۔ایک ایک مبلغ کے ساتھ دس دس ہزار کا لٹریچر ہو۔اب تو یہ حالت ہے کہ ہم نے مورچوں پر سپاہی بٹھا رکھے ہیں، انہیں رائفلیں بھی دی ہیں لیکن گولہ بارود مہیا نہیں کیا اور گولہ بارود کے بغیر رائفل ایک ڈنڈا ہی ہے۔میری اس مثال احراری کہہ دیں گے کہ دیکھ لیا احمدی مبلغین کو رائفلیں دی جاتی ہیں۔گویا علم معانی علم بیان میں جو ادب کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں اُن سے بھی ہمیں محروم رکھا جاتا ہے۔اگر وہ کہیں کہ فلاں شیر ہے تو کوئی نہیں کہتا اُس کے پنجے دکھاؤ۔لیکن اگر ہم کہہ دیں کہ فلاں شیر ہے تو کہتے ہیں اُس کے پنجے کہاں ہیں؟ گویا ہمیں زبان کے تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن ہماری زبان میں جو محاورے ہیں وہ ہمیں استعمال کرنے ہی پڑتے ہیں۔اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔غالب کہتا ہے بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر 4 یعنی بادہ و ساغر سے ظاہری تعلق ہو نہ ہو شاعری اُس کے بغیر ٹھیک نہیں ہوتی۔بہر حال اگر ہم نے تبلیغ کو وسیع کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مبلغین کو ضروری سامان مہیا کر کے