خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 28

خطبات محمود 28 $1954 ایک دفعہ قادیان میں میں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو بعد میں کسی شخص نے کہا کہ ایک نی پیر صاحب آئے ہوئے ہیں۔وہ آپ سے کوئی بات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا اچھا! پیر صاحب کو لے آئیں۔چنانچہ میں مسجد میں ہی بیٹھ گیا اور وہ پیر صاحب آگئے۔انہوں نے سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص کشتی میں سوار ہو اور دریا کے دوسرے کنارے پر جانا چاہتا ہو تو جب کشتی کنارہ پر لگ جائے تو وہ کشتی میں ہی بیٹھا رہے یا دوسرے کنارہ پر پہنچ کر کشتی سے اُتر جائے؟ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے معا یہ بات ڈال دی کہ یہ پیر اباحتی فقیروں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نماز خدا تعالیٰ سے ملنے کے لیے ہوتی ہے۔جب کسی کو خدا تعالیٰ مل جائے تو وہ نماز کیوں پڑھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنی وفات تک نماز پڑھتے رہیں گے۔لیکن میں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ پیر صاحب! یہ بات تو دریا کی چوڑائی پر منحصر ہے۔اگر دریا محدود ہے تو جب کنارہ آ جائے گا اُس شخص کا کشتی میں بیٹھے رہنا بیوقوفی کی بات ہو گی۔لیکن اگر وہ دریا غیر محدود ہے تو اگر ہم سمجھیں گے کہ دریا کا کنارہ آ گیا تو یہ بیوقوفی ہو گی۔پس جہاں ہم اُترے وہیں ڈوبے۔اب آپ بتائیے کہ آپ محدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں یا غیر محدود دریا کے متعلق پوچھ رہے ہیں؟ اب یہاں سوال تو خدا تعالیٰ کا تھا جو غیر محدود ہے اُسے وہ محدود کیسے کہتا۔اس لیے وہ کہنے لگا بات ٹھیک ہے۔میں سمجھ گیا ہوں کہ جب دریا غیر محدود ہو تو جہاں ہم کشتی سے اُتریں گے وہیں ڈوبیں گے۔وہی بات میں اب کہتا ہوں کہ تبلیغ اسلام کا کام قیامت تک ہے جس نے یہ کام چھوڑا مرا۔کھانا چھوڑ دینے سے جسمانی موت واقع ہو جاتی ہے اور تبلیغ اسلام کا فریضہ ترک کر دینے سے روحانی موت آ جاتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے کی مومنوں کے ساتھ سودا کیا ہے کہ اُن کی جانیں اور مال میں نے اُن سے لے لیے ہیں اور اس کے بدلہ میں میں نے انہیں جنت دے دی ہے۔4 پس اللہ تعالیٰ بھی سودے کرتا ہے۔اگر ہم اسے زندگی نہیں دیتے تو وہ ہمیں زندگی کیوں دے۔خدا تعالیٰ کی زندگی کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دین کی تعلیم زندہ رہے۔اگر ہم اسلام کی زندگی کو قائم رکھ کر خدا تعالیٰ کو زندگی نہیں د۔