خطبات محمود (جلد 35) — Page 359
$1954 359 خطبات محمود دیکھ کر طبیعت خوشی اور فرحت محسوس کرتی ہے۔اس وقت تک زیادہ تر لوگ نیگروز یعنی حبشی عالی اقوام سے احمدی ہوئے ہیں لیکن خدا کے نزدیک نیگروز اور وائٹ مین میں کوئی فرق نہیں۔ب اس نے نیگروز بھی پیدا کیے ہیں تو گویا وہ نیگروز کو بھی چاہتا ہے اور وائٹ مین کو بھی چاہتا ہے۔وہ کسی خاص رنگ سے محبت نہیں کرتا۔وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ کے انسان پائے جائیں۔نیگروز بھی ہوں، سفید رنگ کے بھی ہوں اور درمیانہ رنگ کے بھی ہوں۔اب سفید اقوام سے بھی بعض لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔اگر چہ وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں لیکن بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی رو چلائی جا رہی ہے کہ کوئی تعجب نہیں کہ کچھ عرصہ تک ان اقوام میں بھی احمدیت پھیل جائے۔اب امریکن احمدیوں میں تنظیم پہلے سے زیادہ ہے۔وہ چندہ بھی دیتے ہیں، ان کی اپنی اپنی انجمنیں ہیں اور وہ تبلیغ کے سیکرٹری بھی ہیں۔غرض وہ آہستہ آہستہ اپنا کام سنبھالتے جا رہے ہیں۔وہاں لوکل اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔مثلاً کرایہ بہت زیادہ ہے۔یہاں اگر ایک اچھا مکان چالیس روپے ماہوار کرایہ پر مل جاتا ہے تو وہاں معمولی معمولی مکانات کا کرایہ پانچ پانچ ، چھ چھ سو روپیہ ہے اور یہ سر اخراجات وہ خود اُٹھاتے ہیں اور یہ اُن کی بڑی بھاری قربانی ہوتی ہے۔ر سب انڈونیشیا میں بھی ہماری تبلیغ تحریک جدید کے شروع ہونے سے پہلے جاری تھی لیکن اُس وقت وہاں صرف دو تین مبلغ تھے۔اب ایک درجن کے قریب مرکزی مبلغ وہاں کام کہ رہے ہیں۔اسی طرح پہلے وہاں جماعتی چندوں کا حساب نہیں رکھا جاتا تھا۔لوگ چندہ دیتے تھے لیکن نظام کے ماتحت نہیں دیتے تھے۔اب تحریک جدید کے ذریعہ جماعت، نظام کے ماتحت آگئی ہے اور اس وقت اُن کے چندے تحریک جدید اور عام چندوں کو ملا کر تین لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب بن جاتے ہیں۔گو اُن کا روپیہ پاکستان کے روپیہ کی نسبت بہت کم قیمت کا ہوتا ہے۔پھر وہاں با قاعدہ سالانہ کا نفرنسیں ہوتی ہیں۔اب اُن کی توجہ سکول کھولنے کی طرف بھی پھری ہے۔اب یہ تجویز کی گئی ہے کہ وہاں ایک تبلیغی مدرسہ قائم کیا جائے جس میں مبلغین تیار کیے جائیں۔ان میں سے جو مبلغین اچھے ہوں آئندہ صرف وہی یہاں آیا کریں۔دوسرے نہ آیا کریں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بیدار ہے اور پچھلی جنگ میں اس نے