خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 351

$1954 351 خطبات محمود بیرونی جماعتیں تعداد میں کم ہیں اس لیے اُن کے چندوں سے ہمیں عالمگیر سکیم میں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ہاں مقامی طور پر اُن کا فائدہ پہنچ جاتا ہے مثلاً انڈونیشیا کا مشن ہے۔وہ اپنا سارا بوجھ خود برداشت کر رہا ہے، ایسٹ افریقہ کا مشن ہے وہ اپنا بوجھ خود اٹھا رہا ہے، مغربی افریقہ کے تین مشن ہیں وہ بھی اپنا بوجھ خود اٹھاتے ہیں، شام کا مشن ہے وہ بھی قریباً اپنا سارا بوجھ خود برداشت کرتا ہے۔اسی طرح اور کئی مشن ہیں جو اپنا سارا بوجھ تو نہیں اُٹھاتے لیکن ایک حصہ ضرور اُٹھاتے ہیں۔کوئی تین چوتھائی بوجھ اُٹھا رہا ہے، کوئی نصف بوجھ اُٹھا رہا ہے، کوئی ایک تہائی بوجھ اُٹھا رہا ہے، کوئی ایک چوتھائی بوجھ اُٹھا رہا ہے۔اس لیے اُن پر مرکز کو زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مرکز کو لازمی طور پر اس قسم کے مشنوں پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے۔لیکن جہاں جماعت کے افراد کی تعداد بہت کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں مثلاً ہالینڈ ہے، امریکہ ہے، سوئٹزرلینڈ ہے، جرمنی ہے وہاں زیادہ تر مرکز کو بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے کیونکہ وہ جماعتیں بہت تھوڑا بوجھ خود اُٹھا سکتی ہیں۔یا مبلغ آتے جاتے ہیں تو اُن کا کرایہ اور دوسرے مصارف مرکز کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یا طالبعلم خصوصاً بیرونی طالبعلم ہیں اُن کے اخراجات مرکز کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔اس وقت زیادہ تر انہی مدات پر خرچ ہوتا ہے۔اگر کسی جگہ نیا مشن کھولا جائے تو چونکہ ایک دو سال تک وہاں جماعت اس قدر نہیں ہوتی کہ وہ کوئی مالی بوجھ اُٹھا سکے اس لیے سب اخراجات مرکز کو برداشت کرنے پڑیں گے۔مثلاً جاپان میں اس وقت احمد یہ جماعت قائم نہیں۔اگر ہم وہاں اپنا مشن کھولیں تو اُس وقت تک کہ وہاں جماعت قائم ہو جائے اور وہ اپنا سب بوجھ یا اُس کا کسی قدر حصہ اُٹھانے کے قابل ہو جائے سب بوجھ مرکز کو اُٹھانا پڑے گا۔جاپان میں لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ ہے اور اچھے اچھے لوگوں نے خواہش کی ہے کہ انہیں احمدیت سے روشناس کیا جائے۔لیکن چندہ کم آنے کی وجہ ہمیں تو شاید بعض پہلے مشن بھی بند کرنے پڑیں۔اس لیے ہم وہاں نیا مشن نہیں کھول سکتے۔اب دیکھو! جاپان کتنا عظیم الشان ملک ہے۔اگر ہم وہاں مشن کھول دیں اور خدا کرے وہاں ہماری جماعت قائم ہو جائے تو احمدیت کی آواز سارے مشرقی ایشیا میں گونجنے لگ جائے لیکن ہماری موجودہ حیثیت ایسی نہیں کہ ہم کوئی نیا مالی بوجھ برداشت کر سکیں۔پھر آسٹریلیا