خطبات محمود (جلد 35) — Page 309
$1954 309 خطبات محمود ہر رنگ میں تحقیقات کر لی ہے۔اگر تم دعاؤں میں لگ جاؤ تو یقیناً یہ بات خدا تعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں۔وہ ملک کی حفاظت کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق مشہور ہے کہ ایک دفعہ آپ کے خلاف بعض حاسدوں نے بادشاہ کے کان بھرے کہ آپ بادشاہ کے خلاف منصوبہ کر رہے ہیں اور اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔بادشاہ بیوقوفی سے اُن کی بات میں آ گیا اور اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو سزا دے اور وہ اُس وقت ایک مہم پر جا رہا تھا۔اُس نے کہا کہ میں اس مہم سے واپس آ کر آپ کو گرفتار کروں گا۔آپ کے مریدوں نے جن میں بڑے بڑے درباری اور رؤساء بھی شامل تھے جب یہ بات سنی تو انہوں نے آپ سے کہنا شروع کیا کہ آپ کوشش کریں اور بادشاہ کو یقین دلائیں کہ آپ اُس کے وفادار خادم ہیں۔شاید اُس کا خیال بدل جائے۔لیکن حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کسی طرح راضی نہ ہوئے۔جب بادشاہ مہم فارغ ہو کر واپس لوٹا تو مریدوں نے پھر کہا کہ اب تو بادشاہ کی واپسی میں بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں ہمیں کوئی ایسی تجویز کرنی چاہیے کہ بادشاہ اپنا فیصلہ بدل لے۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے فرمایا ނ هنوز دتی دور است یعنی ابھی دتی بہت دور ہے۔بادشاہ منزل بمنزل دہلی کے قریب آتا گیا اور مرید اس کے پاس آتے اور کہتے آپ ہمیں کوئی مشورہ نہیں دیتے کہ آخر ہم کیا کریں۔بادشاہ دتی پر کی طرف بڑھتا آ رہا ہے اور وہ واپس آتے ہی اپنے فیصلہ پر عمل کرے گا۔اس حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است، ابھی دتی بہت دور ہے۔یہاں تک کہ بادشاہ شہر کے دروازہ پر پہنچ گیا اور اسلامی طریق کے مطابق شہر سے باہر ایک محل میں ٹھہرا۔دوسرے دن صبح اُس نے شہر میں داخل ہونا تھا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے مرید آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ بادشاہ اب شہر کے دروازہ پر پہنچ گیا ہے اور صبح شہر میں داخل ہو گا اب تو کوئی تجویز کرنی چاہیے۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ