خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 301

$1954 301 خطبات محمود دریافت کریں کہ اس ذلت کو دور کیسے کیا جائے؟ حضرت عمر خود بھی ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور پھر دوسرے خاندانوں کے شجرہ نسب کو یاد رکھنا آپ کے خاندان کے ذمہ تھا۔اس لیے آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ کس قدر معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کی کیفیت دیکھ کر آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔آپ کی آواز بھتر اگئی اور آپ منہ سے کوئی لفظ نہ نکال سکے۔آپ نے صرف ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا علاج شام میں ہے۔شام میں اُن دنوں جنگ ہو رہی تھی۔ان لوگوں نے آپ کا مفہوم سمجھ لیا اور فوراً اونٹ اور گھوڑے تیار کیے اور شام کی طرف روانہ ہو گئے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ ان میں سے پھر ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا اور سب کے سب وہیں شہید ہو گئے۔10- گویا انہوں نے اپنی جان قربان کر کے اپنی ذلت کا داغ دھویا۔لیکن حضرت عمرؓ کے بعد جو لوگ آئے انہوں نے اس قومی کیریکٹر کو قائم نہ رکھا۔حضرت عثمان نے پرانے لوگوں کو مختلف کاموں کے لیے آگے بلایا مگر انہوں نے مدینہ چھوڑ نا پسند نہ کیا جس پر لازماً انہیں نئے لوگ آگے لانے پڑے۔صحابہ کو یہ بات بُری لگی لیکن حضرت عثمان نے فرمایا میں مجبور ہوں۔میں تمہیں ان جگہوں پر بلاتا ہوں لیکن تم مدینہ سے باہر جانے پر راضی نہیں ہوتے۔لیکن حالت یہ تھی کہ اُس وقت حکومت کے کام مصر، شام، فلسطین اور ایران تک پھیل چکے تھے اور پرانے لوگ یہ چاہتے تھے کہ وہ بڑے بھی بنے رہیں اور مدینہ سے بھی نہ نکلیں اور یہ چیز مشکل تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔بہر حال یہ خرابی اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب بڑے لوگ جنہوں نے دین کی خدمت نہیں کی ہوتی وہ آگے آ جاتے ہیں اور قوم انہیں یہ سمجھ کر سر پر اٹھا لیتی ہے کہ ہمارے بڑ۔لوگ آگے آگئے ہیں اور اس طرح قوم پر تباہی آجاتی ہے۔پس تم ضرورت وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کرو۔اور یہ وقف اتنی کثرت کے ساتھ ہونا چاہیے کہ اگر دس نو جوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سو نوجوان پیش کرے۔مگر اب واقفین ملتے بھی ہیں تو بعد میں بھاگ جاتے ہیں۔اور یہ ایسی شرمناک چیز ہے کہ اس کی موجودگی میں کوئی قوم شرفاء کے سامنے سر