خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 300

$1954 300 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت عمرؓ کے زمانہ تک یہ کیریکٹر مسلمان قوم میں ر زندہ رہا۔اس کے بعد یہ کیریکٹر مٹ گیا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے دربار میں مکہ کے رؤساء آئے۔حضرت عمرؓ نے انہیں اعزاز سے بٹھایا۔لیکن وہ رؤساء ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت سہیل آ گئے۔اس پر حضرت عمرؓ نے اُن رؤساء سے کہا آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے جگہ چھوڑ دیں اور آپ نے سہیل سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔اس کے بعد کچھ اور غلام صحابہ آئے تو آپ نے پھر ان سے فرمایا آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے جگہ چھوڑ دیں۔اس پر وہ اور پیچھے ہٹ گئے۔اتفاق سے اُس دن سات آٹھ غلام صحابہ آ گئے۔اُن دنوں کمرے چھوٹے ہوتے تھے اس لیے وہ ان کے لیے جگہ خالی کرتے کرتے جوتیوں میں آگئے اور پھر انہیں وہاں سے بھی اُٹھ کر باہر آنا پڑا۔اس پر وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کہنے لگے تم نے دیکھ لیا کہ آج عمرہ نے ہمیں ان غلاموں کے سامنے کیسا ذلیل کیا ہے۔ان میں سے ایک عقلمند تھا۔اُس نے کہا تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ یہ کس کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔یہ سب کچھ ہمارے باپ دادا کی کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ لوگ وہ تھے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوی کیا تو انہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔ہمارے باپ دادوں نے انہیں مارا پیٹا اور طرح طرح کے دکھ دیئے لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔اب جب اسلام نے ترقی کی ہے تو انہی لوگوں کا حق تھا کہ وہ عزت پاتے۔ان کا حق انہیں مل رہا ہے اور تمہارا حق تمہیں مل رہا ہے۔دوسروں نے کہا پھر اس کا علاج کیا ہے؟ اس نے کہا چلو! پھر عمر سے ہی اس کا علاج پوچھ لیں۔چنانچہ وہ واپس آئے، آواز دی۔حضرت عمرؓ نے انہیں اندر بلا لیا۔آپ سمجھتے تھے کہ آج جو سلوک ان سے ہوا ہے اُسے انہوں نے محسوس کیا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا آج جو کچھ آپ لوگوں سے ہوا میں اس کے متعلق مجبور تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ان لوگوں کی عزت فرمایا کرتے تھے۔اب عمر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ان کی عزت نہ کرے۔انہوں نے کہا ہم ساری بات سمجھ گئے ہیں اور ہم اس لیے دوبارہ آئے ہیں کہ آپ۔ނ