خطبات محمود (جلد 35) — Page 299
1954ء 299 خطبات محمود اس کی ذمہ داری جماعت کے سب افراد پر ہے۔ خصوصاً ایسے طبقہ پر جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتا ہے۔ ” چودھری کے لفظ سے میری مراد زمیندار نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول جب بیمار ہو گئے تو آپ بعض دفعہ باہر آ کر لیٹ جاتے اور لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے۔ بیمار تھک بھی جاتا ہے۔ جب آپ آر تھک جاتے تو فرماتے دوست اب چلے جائیں۔ اس پر کچھ لوگ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔ کچھ دیر کے بعد آپ فرماتے، میں اب تھک گیا ہوں احباب اب تشریف لے جائیں۔ اس پر آٹھ دس آدمی اور چلے جاتے ۔ مگر چند آدمی پھر بھی بیٹھے رہتے اور وہ سمجھتے کہ ہم اس حکم کے مخاطب نہیں ہیں۔ اس پر آپ تیسری بار فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔ یعنی جو لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں وہ بھی چلے جائیں۔ جاٹ کی نہیں تھی بلکہ وہ لوگ مراد تھے جو اپنے آپ کو قانون کی اطاعت سے مستنی سمجھتے تھے لیکن جب جماعت کو عزت ملے گی تو پھر یہی لوگ کہیں گے کہ نائی، موچی اور دھوبی آگے آگئے ہیں اور وہ کوشش کریں گے کہ خود عزت حاصل کریں۔ اُس وقت جماعت کے اندر اگر غیرت پائی جاتی ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پیچھے ہٹا دے اور کہے کہ جب ضرورت کے وقت تم نے خدمت نہیں کی تھی تو اب تمہیں آگے آنے کی اجازت نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جب قوم کو عزت ملتی ہے اور مال زیادہ ہو جاتا ہے تو وہی چودھری آگے آ جاتے ہیں ۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مالِ غنیمت آتا ہے تو منافق بھی آگے آجاتے ہیں۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اب تم کیوں آئے تو کہتے ہیں تم ہم پر حسد کرتے ہو۔ و ہر قوم میں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔ جب جنگ ہوتی ہے اور جان قربان کرنے کا وقت آتا ہے تو اس ٹائپ کے لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ لیکن جب فتح اور عزت ملتی ہے تو یہی لوگ آگے آجاتے ہیں اور بد قسمتی سے قوم انہیں دھتکارتی نہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ بڑے لوگ آگے آگئے ہیں حالانکہ اُن کی بڑائی اسی دن ختم ہو جاتی ہے جب وہ دین کی خدمت سے اپنا پہلو بچا لیتے ہیں۔ اگر قوم اس کیریکٹر کو زندہ رکھے تو اس قسم کے لوگوں کی اصلاح ہو جائے۔ لیکن قوم اس کیریکٹر کو زندہ نہیں رکھتی ۔ اصل مسودہ میں یہاں چند الفاظ مٹے ہوئے ہیں۔