خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 290

1954ء 290 خطبات محمود لے کر گئے تو معلوم ہوا کہ مہمان حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس اُن کی ملاقات کے لیے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ چائے لے کر وہاں گئے۔ چراغ پرانا ملازم تھا اُس نے پہلے چائے کی پیالی حضرت خلیفة أمسیح الاول کے سامنے رکھی لیکن مجھے نے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ چراغ نے اُسے آنکھ سے اشارہ کیا، کہنی ماری اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بیشک آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کا نام نہیں لیا لیکن آپ ان سب سے زیادہ معزز ہیں اس لیے چائے پہلے آپ کے سامنے ہی رکھنی چاہیے۔ لیکن وہ یہی بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے صرف پانچ کے نام لیے تھے ان کا نام نہیں لیا۔ گویا وہ اس قدر کم عقل تھا کہ اتنی بات بھی سمجھ نہیں سکتا تھا لیکن وہ بہت جلد معمار بن گیا۔ تھا۔ پس اگر لوگ ذرا بھی توجہ کریں تو اس قسم کے پیشے سیکھ سکتے ہیں اور نہ صرف ان کے ذریعہ روپیہ کمایا جا سکتا ہے بلکہ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا جا سکتا ہے۔ معماری کے اور متعلق میرا خیال ہے ہے کہ کہ اسنے اسے کا پانچ چھ ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر مدرس اور کلرک بھی کوشش پانچ جا کریں تو فارغ اوقات میں یہ کام سیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے عملی طور پر اس میں بعض مشکلات سے پر میں پیش آئیں لیکن میرا خیال یہی ہے کہ یہ کام پانچ چھ ماہ میں سیکھا جا سکتا ہے۔ بچپن میں ایک دفعہ میں نے ترکھانوں کو کام کرتے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ یہ کام تو بہت آسان ہے میں ا بھی اسے بآسانی کر سکتا ہوں۔ چنانچہ جب تمام ترکھان چھٹی کر گئے تو وہ ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میں نے تیشہ لیا اور ایک لکڑی پر مارا ۔ مگر وہ بجائے لکڑی پر لگنے کے میرے ہاتھ پر لگا اور ابھی تک اُس کا نشان باقی ہے۔ حالانکہ اپنے خیال میں میں نے یہ سمجھا تھا کہ میں ترکھان کا کام کر سکتا ہوں ۔ لیکن جب تیشہ مار کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک فن ہے۔ اس کی مشق کیے بغیر اس پر حاوی نہیں ہوا جا سکتا۔ بہر حال جماعت کو کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھنا چاہیے تا اس قسم کے مواقع پر وہ خدمت خلق میں نمایاں حصہ لے سکے۔ اس کے بعد میں پھر اس مضمون کو لیتا ہوں جو میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا اور وہ مضمون یہ تھا کہ جماعت میں وقف کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے اور اس کا احساس