خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 287

1954ء 287 خطبات محمود کر کے اس کے حوصلے کو بڑھانا چاہیے۔ میں نے قائد مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کو تحریک کی کہ وہ خدمت خلق کے لیے ایک وفد لاہور بھجوانے کا انتظام کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایک وفد کا انتظام کیا ہے جو آج اڑھائی بجے کی گاڑی سے لاہور روانہ ہو رہا ہے۔ اس وفد میں ایک بڑا حصہ معماروں پر مشتمل ہے۔ میں نے دو تین دفعہ معماروں کے کام پر تنقید کی ہے اور میری اصل غرض یہی تھی کہ ان کی اصلاح ہو۔ نے کہا کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے سامنے ایک شخص نے شراب کی بُرائیاں بیان کیں تو اُس عیب سے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو 1 یعنی شراب میں بہت سی برائیاں سہی لیکن اس میں بعض خوبیاں بھی تو ہیں اس لیے کبھی اُس کی خوبیوں کی طرف بھی نظر کرنی چاہیے۔ یہاں کے معماروں پر میں نے تنقید کی تھی لیکن انہوں نے اس وقت جس قربانی کا مظاہرہ کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کا اظہار جماعت کے سامنے کیا جائے۔ میں نے خیال کیا کہ معماروں کو اس موقع پر غرباء کی امداد کے معماروں کو اس موقع پر غرباء کی امداد کے لیے تحریک کی جائے۔ چنانچہ میری تحریک پر یہاں کے معماروں کے اکثر حصہ نے تین چار دن وقف کیسے ہیں تا کہ لاہور میں جن غرباء کے مکانات گر گئے ہیں اُن کے مکانات بنانے میں اپنی مفت خدمات پیش کریں۔ جماعت کے جو باقی مختلف سیکشن ہیں مثلاً مدرس ہیں، پروفیسر ہیں، ڈاکٹر ہیں، طبیب ہیں اُن کو بھی معماروں کے اس نیک نمونہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ جماعت کا ہر حصہ کسی نہ کسی ذریعہ سے خدمتِ خلق کا کام کر سکتا ہے اور اسے اس کام کو سرانجام دینا چاہیے۔ مثلاً مدرس ہیں وہ بھی خدمت خلق کر سکتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر ہیں وہ بھی اس کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بلکہ اکثر ڈاکٹر اس کام میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ لالچی بھی ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کا اکثر حصہ اپنے فن کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ وقت خدمتِ خلق میں ضرور صرف کرتا ہے۔ پھر وکلاء اور بیرسٹر ہیں، وہ بھی خدمت خلق کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے پیشہ والے بھی ہیں وہ بھی اگر کوشش کریں تو کسی نہ کسی ذریعہ سے پبلک کی خدمت