خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 288

$1954 288 خطبات محمود کے کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔یہاں کے معماروں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے۔انہوں نے خدمت خلق کے لیے تین چار دن وقف کیے ہیں۔اگر انہوں نے اسی جوش سے کام کیا جس کی جوش سے انہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے تو وہ سوا لاکھ فٹ عمارت کھڑی کر سکتے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہیں پچپیس بڑی بڑی کوٹھیاں ان دنوں میں بن سکتی ہیں۔لیکن چونکہ سیلاب میں بالعموم غرباء کا نقصان ہوا ہے ان کے مکانات یا تو گر گئے ہیں یا ان کا کوئی حصہ گر گیا ہے اور وہ مکانات چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔اس لیے سو ڈیڑھ سو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔اور اتنے مکانوں کی تعمیر کے یہ معنے ہیں کہ قریباً دو ہزار افراد کو آرام پہنچ جائے گا اور اس طرح خدمت خلق کا بہت بڑا کام سرانجام پا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر جماعت کے لوگ پیشوں کی طرف توجہ کریں اور انہیں شوق اور محنت سے سیکھ لیں تو نہ صرف جماعت سے بریکاری دور ہو جائے گی بلکہ اس قسم کے مواقع پر ہے بنی نوع انسان کی خدمت بھی کی جا سکتی ہے۔معماری کا پیشہ آسان ہے۔میں نے دیکھا کہ مزدور معماروں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد وہ معمار بن جاتے ہیں۔لاہور میں جس نمائندہ کو بھیجا گیا تھا اُس نے بتایا ہے کہ اس وقت لاہور میں معماری سات سات، آٹھ آٹھ روپیہ روزانہ اجرت مانگتے ہیں اور معماری کا پیشہ ایسا نہیں جس پر زیادہ عرصہ لگے یا زیادہ محنت درکار ہو۔ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ لوگ ایک دو دن کے بعد ہی اپنے آپ کو ماہر فن سمجھنے لگ جاتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ میر محمد اسحاق صاحب نے بچپن میں میرے ساتھ صرف ایک دن طب پڑھی اور رات کو جب سونے لگے تو انہوں نے گھر والوں سے کہا کہ مجھے بہت جلدی جگا دینا حضرت خلیفہ اسی الاول کے پاس بڑی کثرت سے مریض آ جاتے ہیں اور انہیں بہت زیادہ دیر وہاں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔میں وہاں جاؤں گا اور مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں گا۔وہ بچپن کی ایک بیوقوفی تھی مگر اس قسم کی دماغی کیفیت اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ایک شخص چند سطریں لکھ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایڈیٹر سمجھنے لگ جاتا ہے۔بعض لوگ بے وزن، بے معنی اور بے ردیف نظم میرے پاس بھیج دیتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ