خطبات محمود (جلد 35) — Page 274
$1954 274 خطبات محمود اور اُس کی آگ باہر پھیلنی شروع ہو جائے گی۔اُسے دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم او آپ کی ساری امت دعا کرنے لگ جائے گی۔وہ گریہ و زاری کرے گی لیکن آگ برابر بڑھتی چلی جائے گی۔اتنے میں جبریل ایک پتیلا لائیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے يَارَسُولَ اللہ ! اس پتیلے میں پانی ہے۔آپ اس پانی کو لیں اور آگ پر چھڑ کیں۔اس سے آگ بجھ جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کی فرمائیں گے کہ اس پتیلا میں کیسا پانی ہے؟ تو جبریل جواب دیں گے اس میں امت کے گناہگاروں کے آنسو ہیں۔اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلا وسلم کی حدیث ہے میں اس ادعا کو لچر اور لغو سمجھتا ہوں۔یہ حدیث نہیں بلکہ امام غزالی نے اس واقعہ کو صرف نصیحت کے رنگ میں نقل کر دیا ہے۔اگر یہ حدیث ہوتی تو اسے کوئی معتبر محدّث اپنی معتبر کتاب میں بھی بیان کرتا لیکن اسے کسی معتبر محدث نے بیان نہیں کیا۔اصل بات یہ ہے کہ صوفیاء نے بہت سی باتیں ایسی نقل کر دی ہیں جو لکھی تو حدیث کے رنگ میں گئی ہیں لیکن وہ احادیث نہیں۔محدثین کا خیال ہے کہ جس بات میں کوئی نصیحت پائی جائے صوفیاء اُسے نقل کر دیتے ہیں وہ اسے پر کھتے نہیں۔اس قسم کی روایات میں سے یہ واقعہ بھی ہے۔اس میں ایک سبق ہے جو قابل قدر ہے۔اور وہ سبق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے سامنے روتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔باقی یہ بات بالکل لغو ہے کہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے اقطاب اور اولیاء کی دعاؤں نے کوئی اثر نہ کیا وہاں گناہگاروں کے آنسوؤں نے اثر کر دیا۔اتنا حصہ بالکل لچر اور پوچ 8 اور بیہودہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گناہ گاروں کا رونا اور اُن کی گریہ وزاری کرنا اُن کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔مگر یہ بات درست نہیں کہ اُن کے آنسو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی دعاؤں سے بھی بڑھ گئے۔پس ذِکری کے طور پر اس واقعہ میں ایک خوبی پائی جاتی ہے جو قابل قدر ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ حدیث ہے، میں اسے درست نہیں سمجھتا۔بہر حال اگر کوئی انسان ظلم کرتا ہے تو اُسے خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہیے اور