خطبات محمود (جلد 35) — Page 261
$1954 261 خطبات محمود نے برکت کے لیے مجھے چھونا چاہا اور پہرہ داروں کے خطرہ کی وجہ سے کہ وہ کہیں اُسے روک نہ دیں اُس نے جلدی کی اور اس زور سے ہاتھ مارا کہ میں بڑی مشکل سے گرتے گرتے بچا۔اگر اُس کی جگہ کوئی دشمن ہوتا اور اُس کے ہاتھ میں خنجر ہوتا تو پہریدار کیا کرتے؟ اب یہ کا من سنس (COMMONSENSE) سے تعلق رکھنے والا امر ہے کہ جس طرح کا دشمن ہو اُس سے حفاظت کے لیے اُسی قسم کا ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ورنہ پہرے کا انتظام ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اصل چیز تو یہ ہوتی ہے کہ مشتبہ آدمی پر نظر رکھی جائے۔پچھلے دنوں جس شخص نے مجھ پر حملہ کیا تھا آخر اُس کے پاس وہ کونسی چیز تھی جو میرے پاس نہیں تھی۔چاہے میں اُس سے کمزور ہی ہوتا لیکن تاہم اگر وہ سامنے کی طرف سے حملہ کرتا تو میں اُس کا مقابلہ کرتا لیکن اُس نے پیچھے کی طرف سے حملہ کیا کیونکہ اُس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ بزرگ آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں۔مگر اب یہ ہوتا ہے کہ کوئی پہریدار رائفل لے کر پچاس گز ادھر کھڑا ہے تو کوئی پہریدار رائفل لے کر پچاس گز اُدھر کھڑا ہے۔کیا وہ اس قسم کے آدمی کو پکڑ سکتا ہے؟ بندوقیں تو وہاں کام دیتی ہیں جہاں بٹالین نے حملہ کرنا ہے لیکن جہاں کسی نے چوری چھپے چاقو مارنا ہے وہاں ان بندوقوں کا کیا فائدہ اور اتنے دور کھڑے ہونے والے پہریداروں کا کیا کام؟ پس اس قسم کے انتظام سے حقیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔مجھے اس بات سے تو خوشی ہوئی کہ لاہور کی جماعت میں بیداری پیدا ہوگئی ہے لیکن افسوس بھی ہوا کہ اگر وہ عقل سے کام لیتی تو یہ افسوسناک واقعات کیوں ہوتے اور یہ بیداری کتنی برکت والی ہوتی۔اور اگر کوئی جماعت ایسی ہے کہ وہ مشتبہ آدمیوں کی بھی نگرانی نہیں کر سکتی تو ایسی جماعت تو اس قابل ہے کہ اُس کے امام پے در پے مارے جائیں۔جس احمق قوم نے دیکھنا ہی نہیں اُسے کون بچا سکتا ہے۔جو شخص مجلس میں آئے گا اور ہاتھ میں رائفل پکڑے ہوئے ہو گا وہ تو فوراً پکڑا جائے گا اور اگر کسی کے ہاتھ میں ہتھیار موجود نہیں اُس کے لیے دور دور کے پہریدار کیا روک بن سکتے ہیں۔ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے اندر جانے دو میں نے نماز پڑھنی ہے لیکن اُسے یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ کمرہ بھر گیا ہے۔حالانکہ اگر کوئی شخص میرے پیچھے پانی میں کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھنا چاہتا ہے تو تم اُسے روکنے والے کون