خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 255

$1954 255 خطبات محمود افغانستان کی طرف جا رہا تھا تو رستہ میں وہ ایک پہاڑی درہ میں سے گزرا۔وہ جگہ بڑی خطر ناک تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ دشمن وہاں سے حملہ نہ کر دے اور لشکر کو نقصان نہ پہنچائے۔ارد گرد فوج کے دستے جا رہے تھے۔ایک جگہ یک دم ایاز نے سیٹی بجائی اور اپنی فوج کو ایک طرف لے کر چلا گیا۔ایک افسر نے موقع غنیمت جانا اور محمود کے پاس شکایت کی کہ دیکھیے ! اس قسم کے نازک موقع پر ایاز فوج لے کر شکار کے لیے چلا گیا ہے۔کیا ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ شخص قابل اعتبار نہیں؟ محمود نے کہا ایاز واپس آئے گا تو اُس سے دریافت کروں گا کہ اُس نے ایسا کیوں کیا ہے؟ جب وہ درے سے باہر نکلے تو ایاز وہاں کھڑا تھا اور کچھ قیدی بھی اُس کے ساتھ تھے۔محمود نے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ ایاز نے کہا یہ لوگ ایک چٹان کے پیچھے چُھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔اسی چٹان کے پاس سے شاہی سواری گزرنی تھی۔میں نے سمجھا کہ ان لوگوں کی نیت خراب ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ بادشاہ کو نقصان پہنچا ئیں۔چنانچہ میں نے دستہ علیحدہ کیا اور اس طرف چلا گیا اور ان لوگوں کو گرفتار کر لایا۔محمود نے دریافت کیا کہ تمہیں کس طرح خیال پیدا ہوا کہ ان پتھروں کے پیچھے کچھ آدمی بیٹھے ہیں ایاز نے کہا مجھے ان لوگوں کا اس طرح علم ہوا کہ میں ہر وقت آپ کے چہرہ پر توجہ رکھتا ہوں۔جونہی ہم اُس جگہ پہنچے، میں نے دیکھا کہ آپ نے اُس جگہ دیر تک اپنی نظر جمائے رکھی۔اس سے میں نے خیال کیا کہ آپ کا ایسا کرنا بلا وجہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ میں نے اپنا دستہ الگ کر لیا اور اُس طرف روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ کچھ آدمی پتھروں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں اور چونکہ وہ مشتبہ حالت میں تھے اس لیے میں نے ان سب کو گرفتار کر لیا۔محمود نے باقی افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اب بتاؤ! کیا تم نے وہ کام کیا جو اس نے کیا ہے؟ میں نے اُس طرف دیکھا لیکن یہ لوگ کہیں چُھپ گئے اور مجھے نظر نہ آئے۔ایاز نے میری طرف نگاہ رکھی اور میرے اُس طرف دیکھنے سے اسے خطرہ محسوس ہوا۔چنانچہ وہ اُس طرف دستہ لے کر چلا گیا اور ان لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ممکن تھا کہ یہ لوگ مجھے نقصان پہنچاتے۔اس شخص نے عقل سے کام لیا لیکن تم نے عقل کو استعمال نہیں کیا۔اس پر وہ سب افسر شرمندہ ہو گئے۔