خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 256

خطبات محمود 256 $1954 اسی طرح کولمبس کے متعلق مشہور ہے۔کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا اور اُسے کی امریکہ دریافت کرنے کا شوق اس لیے پیدا ہوا کہ اُس نے مسلمانوں سے سنا ہوا تھا کہ اس طرف کوئی ملک ہے۔چنانچہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کی ایک خواب تھی جو میں نے بھی پڑھی ہے۔انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ مجھے رویا میں دکھایا گیا ہے کہ سپین کے ملک سے پرے ایک بہت بڑا ملک واقع ہے (حضرت محی الدین صاحب ابن عربی اسپین کے رہنے والے تھے )۔اس بات کا آپ کے مریدوں میں چرچا ہو گیا۔کولمبس نے بھی اُن سے یہ بات سن لی۔اُسے مسلمانوں سے عقیدت تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ یہ لوگ جو بات کہتے ہیں وہ درست ہوتی ہے۔اُس نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔اس نے مختلف چیزوں سے اس بات کی سچائی کا اندازہ لگا لیا۔اُس نے دیکھا کہ سمندر میں اس علاقہ کی طرف سے جس کی طرف محی الدین ابن عربی نے اشارہ فرمایا ہے بعض چیزیں بہتی ہوئی آتی ہیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔اس سے اُس نے سمجھ لیا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔اس لیے اُس نے امریکہ دریافت کرنے کا ارادہ کر لیا۔وہ غریب آدمی تھا اور اس مہم کے اخراجات کا متکفل نہیں ہوسکتا تھا۔اس لیے وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کی کہ پین سے پرے ایک بہت بڑا ملک واقع ہے۔میں اُسے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔اگر میں نے وہ ملک دریافت کر لیا تو وہ ملک آپ کا ہو گا اور اس سے آپ کی عزت بڑھے گی۔اگر آپ مجھے کچھ آدمی دے دیں، کچھ جہاز دے دیں اور ملاحوں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے کچھ روپیہ دے دیں تو میں اُس ملک کو دریافت کروں۔پہلے تو بحری علوم کے ماہرین نے اُس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بڑا جان جوکھوں کا کام ہے۔اُن دنوں میں انجن سے چلنے والے جہاز نہیں ہوتے تھے بلکہ بادبانی جہاز تھے اس لیے چھوٹے چھوٹے سفروں میں بھی پانچ پانچ ، چھ چھ ماہ لگ جاتے تھے اور جہازوں میں اتنے لمبے عرصہ تک کی خوراک رکھنا بھی مشکل ہوتا تھا۔پھر جہازوں کو ہوائیں توڑ پھوڑ دیتی تھیں اور لوگ موت کی نذر ہو جاتے تھے۔لیکن جب کولمبس نے اصرار کیا تو بادشاہ آدمی، جہاز اور روپیہ دینے کے لیے تیار ہو گیا۔اس پر پادریوں نے کولمبس کی مخالفت شروع کر دی اور کہا کہ زمین تو چپٹی ہے اور کولمبس کا کہنا اسی صورت میں