خطبات محمود (جلد 35) — Page 252
$1954 252 خطبات محمود کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اُن کی قوت فکر بڑھ جاتی ہے اور جنہیں اپنے ماحول پر غور کی کرنے کی عادت نہیں ہوتی اُن کی قوت فکر جاتی رہتی ہے۔پھر جو لوگ اپنے مختلف جذبات کو ی اُن کی اپنی اپنی حد کے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کی عقل ترقی کرتی ہے اور جو ایسا نہیں کرتے ان کی عقل ماری جاتی ہے۔جو لوگ خدا داد سامانوں کو صحیح طور پر اور مناسب موقع پر استعمال کرنے کی سکیم بنا لیتے ہیں اُن کی قوت مدبرہ ترقی کرتی ہے اور جو اس قسم کی کی ، سکیم نہیں بناتے اُن کی قوت مدبرہ جاتی رہتی ہے۔لیکن پیدائش کے وقت یہ سب قو تیں ر انسان کو ملتی ہیں اور قریباً برابر ملتی ہیں۔بعد میں ناقدری کی وجہ سے یہ قو تیں کم ہو جائیں تو اور بات ہے۔یا ماں باپ نے جس قسم کا معاملہ کیا ہو اُس کے مطابق یہ قوتیں زیادہ یا کم ہو جاتی ہیں۔مثلاً ایام طفولیت میں اگر ماں باپ نے بچہ کی صحیح نگرانی نہیں کی یا ماں نے حمل کے دوران میں پوری احتیاط نہیں کی تو اُس سے بچہ کی قوتوں پر اثر پڑ سکتا ہے لیکن یہ اثر بہت کم ہوتا ہے إِلَّا مَا شَاء الله - یعنی بعض اوقات بچہ پیدائشی طور پر پاگل ہوتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔اگر انسانوں کو بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو کروڑوں کروڑ لوگ ایسے نکلیں گے جو ان خدا داد قوتوں سے مالا مال ہوں گے لیکن ظاہری لحاظ سے یہ صورت نہیں۔اگر تمام انسانوں کی مالی حالت کا اندازہ لگایا جائے تو ظاہری مالدار اس دنیا میں دس پندرہ لاکھ سے زیادہ نہ ہوں گے۔اس وقت دنیا کی آبادی اڑھائی ارب ہے۔اگر ظاہری دولت رکھنے والے پندرہ لاکھ ہوں اور دنیا کی آبادی پندرہ کروڑ ہوتی تو ان کی نسبت کروڑ میں سے ایک لاکھ کی ہوتی۔لیکن دنیا کی آبادی اڑھائی ارب ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ قریباً سترہ سو میں سے ایک شخص ایسا ہے جس کے پاس ظاہری دولت ہے۔لیکن حافظہ، ذہانت، تدبر اور فکر کی دولت سترہ سو میں سے 1680 کے پاس ہو گی۔صرف میں اشخاص ایسے نکلیں گے جن کی یہ طاقتیں ماؤف ہوں کی گی باقی سب لوگوں کے پاس یہ دولت موجود ہو گی۔ہاں! عدم استعمال کی وجہ سے ان پر زنگ لگ جائے تو اور بات ہے۔جیسے اگر کوئی چاقو بارش میں پھینک دے تو اس پر زنگ لگ جائے گا لیکن اگر اُسے پانی میں سے اُٹھا کر صاف کیا جائے تو وہ ویسا ہی صاف نکل آئے گا جیسے پہلے تھا۔لیکن سب سے زیادہ بے قدری اسی دولت کی کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف۔ނ