خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 253

$1954 253 خطبات محمود ہر انسان کو عطا کی گئی ہے۔اگر کسی شخص سے دریافت کیا جائے کہ تمہارے پاس کیا کیا مال ہے ہے؟ تو وہ کہے گا میرے پاس اتنی زمین ہے، مکان ہے، بھینس ہے، گھوڑا ہے لیکن وہ دولت جو سب سے بڑی ہے مثلاً ہوا ہے، پانی ہے جو اسے نہ ملے تو مر جائے اُس کا ذکر تک نہیں کرے گا۔بھینس اور گھوڑا ضائع ہو جائے تو انسان نہیں مرے گا، کپڑوں کا ایک حصہ جاتا رہے تو وہ موسم کی برداشت کرلے گا لیکن ہوا نہ ملے تو چند منٹ میں ہی مر جائے ، اگر پانی نہ ملے تو وہ ایک دن یا اس سے کچھ زائد عرصہ میں مر جائے گا۔غرض انسان سب سے بڑی دولت کو گنے گا ہی نہیں۔حالانکہ اگر یہ دولت اسے نہ ملے تو اُس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔وہ کبھی آنکھوں، کانوں، ناک اور زبان کا نام نہیں لے گا حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ کہتا ہے میرے پاس گڑ ہے تو وہ گر کس کام کا جب زبان نہ ہو گی۔اگر زبان گرد کو نہ چکھتی تو انسان کے نزدیک گڑ اور پھیکا برابر ہے۔یا مثلاً وہ کہتا ہے میری بیوی اور بچے خوبصورت ہیں لیکن اُس کو یہ خیال نہیں آئے گا کہ اگر اس کی آنکھیں ہی نہ ہوں تو اسے وہ خوبصورت کیسے معلوم ہوں۔غرض دولت کے جو حقیقی خزانے ہیں انسان ان کی قدر نہیں کرتا اور جو دولتیں نسبتی ہیں اور بالواسطہ ملتی ہیں اُن کے پیچھے ہر وقت پڑا رہتا ہے۔مثلاً کپڑا ہے۔اگر کپڑا میرے جسم کو نرم اور ملائم معلوم ہوتا ہے تو اس کی قیمت ہے۔اور اگر میرا جسم کپڑے کی ملائمت محسوس نہیں کرتا تو اس کی کوئی قیمت نہیں۔پھر اگر کپڑے کی کوئی قیمت ہے تو اس لیے کہ میرے ملنے والے دوستوں کو اچھا لگے اور انہیں لذت محسوس ہو۔اگر میرے دوست کی آنکھیں ہی نہ ہوں اور میری جس موجود نہ ہو تو چاہے وہ کپڑا لاکھ روپے گز کا ہو یا چند آنے کا، مجھے اس کا کیا فائدہ؟ پھر زبان اور معدہ ہیں یہ دونوں مل کر کھانے کی قیمت بناتے ہیں۔اگر کوئی دودھ پیسے، رس پیے ، مکھن کی کھائے ہستی پہیے یا پلاؤ اور زردہ کھائے لیکن اس کی زبان نہ ہو تو یہ چیزیں کچھ بھی نہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا میرا علاج کیجیے، مجھے بھوک نہیں لگتی۔آپ فرماتے تھے کہ ایک دن اتفاقیہ طور پر میں اُس کے ہاں چلا گیا تو میں نے دیکھا کہ اُس کے سامنے ساٹھ ستر کھانے پڑے تھے اور وہ ر ایک کھانے سے ایک ایک لقمہ چکھتا۔اور جب ہمیں پچیس لقمے کھا چکا تو کہنے لگا دیکھیے ! اب