خطبات محمود (جلد 35) — Page 232
$1954 232 خطبات محمود اور اس طرح خوب فائدہ اُٹھاؤ۔یہ تو ایسی بات ہے کہ کسی شخص کے پاس پانی ہو اور اُس کے پاس دوسرا شخص پیاسا مر رہا ہو لیکن وہ کہے کہ میں پانی چھپیں روپے سیر بیچتا ہوں۔یہ طریق نہایت ناواجب اور ناشائستہ ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ پاکستانیوں کے پاس نہ غلہ ہے اور نہ بھینسیں ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔غلہ بھی موجود ہے اور گھی بھی موجود ہے۔صرف ٹوٹ کا احساس ہے جس نے ان چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی ہیں حالانکہ ہر پاکستانی کو سمجھنا کی چاہیے تھا کہ اس موقع پر مجھے ان اشیاء کی قیمت نہیں بڑھانی چاہے۔اس لیے کہ اس کی میرے بھائیوں کو ضرورت ہے۔اگر قیمت میں فرق پڑ گیا تو کیا حرج ہے۔اگر خدا نخواستہ ویسٹ پاکستان پر مصیبت آتی تو ایسٹ پاکستان والوں کا فرض ہوتا کہ وہ اس کی خاطر قربانی کرتے۔بہر حال میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قربانی کر کے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چندہ جمع کریں۔اس سلسلہ میں کراچی کی جماعت نے سب سے ، پہلے قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے پانچ ہزار روپے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے تین ہزار روپے سے اوپر چندہ انہوں نے جمع کر لیا ہے۔جن جماعتوں نے اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ چندہ جمع کریں اور اسے مرکز میں بھیجیں۔مرکز بھی اپنے پاس کی سے کچھ رقم دے گا کیونکہ ان لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اخراجات کو کم کر کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے کچھ رقم نکالیں۔پھر جو رقم جمع ہو اس میں سے کچھ رقم حکومت کے مقرر کردہ نظام کو بھیج دی جائے اور کچھ رقم جماعت کو بھیج دی جائے تا کہ وہ اپنے ہمسایوں میں خود تقسیم کرے۔اس طرح برادرانہ تعلقات بڑھتے ہیں۔بعض جگہوں پر تحریک کی گئی ہے کہ مصیبت زدگان کی امداد کے لیے ایک ایک دن کی تنخواہ دے دی جائے۔چنانچہ لائلپور میں ایک مل میں اس قسم کی تحریک کی گئی تو سینتیس ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔گویا ان کے ایک ماہ کی تنخواہ کا بجٹ گیارہ لاکھ دس ہزار روپے ہے اور ایک سال کی تنخواہ کا بجٹ ایک کروڑ تینتیس لاکھ بیس ہزار روپیہ ہے۔ہماری جماعت کی تنخواہیں اتنی نہیں۔پھر ہماری جماعت کے دوستوں کی توجہ تجارت اور صنعت و حرفت کی طرف نہیں۔بلکہ اگر کسی کو کوئی کام آتا ہو تو وہ بھی چاہتا ہے کہ یہ کام میر