خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 229

$1954 خطبات محمود 229 بالکل اسی قسم کی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دریائے چناب میں جا کر بانس گاڑ لے اور اُن پر ای گھاس پھونس ڈال کر وہاں رہنا شروع کر دے۔اگر تم ایسا کرو بھی تو محض کھیل سمجھ کر کروی گے۔لیکن وہ لوگ مصیبت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں دیکھ کر گاؤں کے بوڑھے اور جوان، مرد اور عورت سب جمع ہو گئے۔اور وہ اس طرح روئے اور اس طرح انہوں نے گریہ و زاری کی جیسے کوئی گہرا دوست سالہا سال کی جُدائی کے بعد ملا ہو۔وہ امی ہمیں دیکھ کر سب کچھ بھول گئے۔ہم نے انہیں کچھ چاول دیئے اور کہا ہم لوگ غریب ہیں لیکن پھر بھی چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی تکلیف میں حصہ لیں۔انہوں نے چاول واپس کر دیئے اور کہا ہمیں اس بات کا ڈر نہیں کہ ہم فاقوں مر جائیں گے۔ہم میں سے جس کے پاس کچھ غلہ روپے ہیں وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ہمیں صرف یہی احساس تھا کہ ملک میں ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اب آپ آ گئے ہیں تو ہمیں سب کچھ مل گیا ہے۔اب ہم فاقے میں بھی ہیں تو ہمیں اس بات کی پروا نہیں۔ہمیں اس مدد کی ضرورت نہیں۔ہم جیسے بھی بن پڑا گزارہ کریں گے۔ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری تکلیف کا احساس کرنے والے لوگ ملک میں موجود ہیں۔دیکھو! یہ چیز کتنی تکلیف دہ ہے۔ایک قوم کے افراد بھوکے مرتے ہیں، وہ فاقے برداشت کرتے ہیں لیکن وہ مدد قبول نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں ہم اس بات سے خوش ہو گئے ہیں کہ پاکستان میں ہمیں پوچھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔اس سے زیادہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔اس علاقہ کے احمدیوں کے متعلق یہ رپورٹ ملی ہے کہ وہ نماز بھی بانسوں کی بنی تی ہوئی چھتوں پر پڑھتے ہیں۔گویا نماز پڑھنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔اب اُن کا اپنے ساتھ مقابلہ کرو۔جب یہاں سیلاب آیا تو اُس کا زیادہ زور صرف ایک رات تھا۔میں اُن دنوں ربوہ سے باہر تھا۔مجھے یہاں سے بیسیوں رپورٹیں گئیں کہ ہم نے گیلیوں کی کشتیاں بنائیں اور ہم نے یوں بہادری اور دلیری کے ساتھ فلاں فلاں گاؤں کے لوگوں کو سیلاب کی زد سے بچایا۔یہ تکلیف صرف ایک رات کی تکلیف تھی لیکن ایسٹ پاکستان کا قریباً سارا علاقہ ہیں بچھپیں دن سے اس قدر تکلیف میں مبتلا ہے کہ وہ بانسوں کی بنی ہوئی چھتوں سو رتے ہیں