خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 209

خطبات محمود 209 $1954 انتخاب میں غلطی کی ہے مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ایک شخص کو خلیفہ ماننے میں غلطی کی ہے کیونکہ مامور کے بعد اُس کا کوئی نہ کوئی خلیفہ ضرور ہونا چاہیے۔مگر آپ تو کہتے ہیں میں ނ مامور ہوں۔پس سوال یہ ہے کہ ہم آپ کو کیوں مان لیں؟ کہنے لگا مجھے خدا کی طرف الہام ہوتا ہے۔میں نے کہا اس طرح تو جس کے جی میں آئے گا کہہ دے گا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔پھر کیا میں ہر ایک کو مانتا پھروں گا؟ کہنے لگا نہیں، مجھے سچا الہام ہوتا ہے۔میں نے کہا میں نے تو آج تک کوئی شخص نہیں دیکھا جو یہ کہتا ہو مجھے جھوٹا الہام ہوتا ہے۔ہر شخص یہی کہتا ہے کہ مجھے سچا الہام ہوتا ہے۔کہنے لگا آپ نے مرزا صاحب کو مانا ہے یا نہیں؟ اگر الہام کی وجہ سے نہیں تو کس وجہ سے آپ نے اُن کو مانا ہے؟ میں نے کہا ہم نے مرزا صاحب کو اس لیے مانا ہے کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو مامور بنا کر بھیجتا ہے تو اُس کے آنے سے پہلے ہی اُس کی صداقت کے گواہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ گواہی اُس کی صداقت کا ثبوت ہوتے ہیں ورنہ خالی دعویٰ اُس کی صداقت کا ثبوت نہیں ہوتا۔پھر میں نے کہا آپ مرزا صاحب کے زمانہ میں آئے تھے۔اگر مرزا صاحب آپ کو مان لیتے تو یہ سب جھگڑا ختم ہو جاتا۔کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ نبی کی فال پر بڑی نظر ہوتی ہے۔جب میں آپ سے ملنے کے لیے آیا تو اُس وقت میں نے کالا کوٹ پہنا ہوا تھا۔مرزا صاحب نے میرا کالا کوٹ دیکھ کر مجھے نہیں مانا۔کیونکہ کالا رنگ منحوس ہوتا ہے۔میں نے کہا یہ دلیل آپ کے نزدیک چلتی ہو گی ، مرزا صاحب کے لیے تو جو خدا تعالیٰ نے دلیل پیدا کی تھی وہ یہ تھی کہ ابھی آپ نے دعوی بھی نہیں کیا تھا کہ اُس نے آپ کے ہاتھ سے براہین لکھوا دی۔جس نے بھی براہین کو دیکھا اُس نے سمجھ لیا کہ یہ شخص خدا رسیدہ ہے کیونکہ قرآن کی معرفت بغیر خدا رسیدہ انسان کے اور کسی کو نہیں ہو سکتی۔جب لوگوں پر ثابت ہو گیا کہ آپ قرآن کی خدمت کرنے والے ہیں، خدا تعالیٰ کی محبت رکھنے والے ہیں، دین کی اشاعت کرنے ہیں تو اس کے بعد جب آپ نے دعوی کیا تو لوگوں نے آپ کو مان لیا۔اور پھر ان کے ایمانوں کی اس رنگ میں زیادتی ہوتی چلی گئی کہ آپ نے پیشگوئیاں کیں اور وہ پوری ہو گئیں۔کہنے لگا میں نے بھی کئی پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں۔میں نے کہا جب وہ پوری ہوں گی اُس وقت مجھے