خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 208

$1954 208 خطبات محمود جاتی ہیں۔یہ مثال دے کر کہنے لگے جس طرح قصاب کی چھریوں کو گوشت کاٹتے وقت چکنائی لی لگ جاتی اور اُن کا منہ گند ہو جاتا ہے اسی طرح جب انسان دنیا کے دھندوں میں مشغول ہوتا جی ہے تو اُس کی روح کچھ نہ کچھ گند ہو جاتی ہے۔اُس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی صحبت میں بیٹھے تا کہ اُس کی روح میں پھر تازگی پیدا ہو جائے اور دنیوی آلائش کا اثر جاتا رہے۔پس تمہیں جلد جلد ملتے رہنا چاہیے۔دوسرے لوگوں کے ملنے سے کچھ تم پر اثر ہوتا ہے اور کچھ ہم پر اثر ہوتا ہے اور چونکہ ہم دونوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہے اس لیے جب ہم ملتے ہیں تو ہمارا زنگ دور ہو جاتا ہے۔پس ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے کہ دوسرے کی اصلاح کرے بشرطیکہ اس کے اندر نیک نیتی پائی جاتی ہو۔یہ نہ ہو جیسے میں نے ایک شخص کی مثال دی تھی کہ کہنا شروع کر دے یہ الہام ہوا ہے ، مجھے وہ الہام ہوا ہے، فلاں مر جائے گا، فلاں کو ترقی مل جائے گی۔یہ محض خود غرضی ہوتی ہے اور ایسا انسان صرف اپنی بڑائی کا خواہشمند ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ عبداللہ تیما پوری قادیان آیا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدی ہوا تھا۔مگر بعد میں خود مدعی بن بیٹھا اور اُس نے روز مجھے رقعے لکھنے شروع کر دیئے کہ مجھے مان لو، میں مصلح موعود ہوں۔تھا کھاتا تھے پیتا آدمی۔کچھ سُودی لین دین بھی کرتا تھا اور اس کے مُرید بعض اچھے اچھے عہدوں پر اور پھر صدقہ و خیرات کرتے رہنا اور غرباء کو کھلانا بھی اُس کی عادت میں داخل تھا۔میرے پاس جب بار بار اُس کے رقعے پہنچے تو میں نے ایک دفعہ اُس کو بلوایا اور کہا آپ کے رقعے تو روز آتے ہیں مگر مجھے فیصلے کا کوئی ذریعہ معلوم نہیں ہوتا۔آپ کہتے ہیں مجھے مان لو مگر سوال یہ ہے کہ میں آپ کو کیوں مان لوں؟ کہنے لگا آپ نے مولوی صاحب کو مانا ہوا ہے یا نہیں؟ پھر مجھے ماننے میں کیا عذر ہے؟ میں نے کہا حضرت مولوی صاحب کو ہم نے خلیفہ مانا ہے اور ہر مأمور کے بعد اُس کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ہوتا ہے۔اور یہ ایک طبعی اور عقلی بات ہے کہ کوئی شخص ایسا ضرور ہونا چاہیے جو جماعت کو سنبھالے ورنہ کام سب تباہ ہو جاتا ہے۔اس غرض کے لیے ہم نے مولوی صاحب کی اتباع کی ہے۔تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہم نے آدمی کے۔