خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 195

1954ء 195 خطبات محمود ٹھیکہ پر میں نے دیا ہے۔ اگر ٹکڑوں میں بٹی ہوئی زمین بھی دو ہزار روپیہ پر چڑھ سکتی ہے اور وہی اندازہ ہم اپنی ان زمینوں کے لیے رکھ لیں تب بھی ہماری آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہونی چاہیے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیں آمد کے متعلق اتنی مایوسی ہو چکی تھی کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے کہا کہ مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ ہمیں ایک لاکھ روپیہ آمد ہوئی ہے حالانکہ تمھیں لاکھ کی جائیداد ہے۔ تمیں لاکھ کی جائیداد پر ایک لاکھ روپیہ نفع کے معنے تین روپیہ سینکڑہ کے ہیں۔ اگر کسی کو سالانہ تین روپے سینکڑہ نفع دیا جائے تو وہ ہزار روپیہ کا سرمایہ کیوں لگائے گا۔ وہ اگر ہزار روپیہ سرمایہ لگاتا ہے تو اسی لیے کہ اُسے اڑھائی تین سو روپے ملیں ۔ اگر کسی کو صرف تیس روپے سالانہ ملیں تو کیا اڑھائی روپے ماہوار پر اُس کی عقل ماری ہوئی ہے وہ ہزار روپیہ سرمایہ لگائے گا۔ وہ اس کی بجائے بیلدار بن جائے گا یا کوئی اور کام شروع کر دے گا مگر ہزار روپیہ کا سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ وہ تبھی ہزار لگاتا ہے جب سمجھتا ہے کہ پچاس ساٹھ ماہوار تو کم سے کم آمد ہو گی۔ اتنا کرایہ دوں گا اور اتنے میں اپنا گزارہ کروں گا۔ تو حقیقتاً ہم نہایت ہی گری ہوئی حالت میں جا رہے تھے۔ ایسی گری ہوئی حالت میں کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ایک لاکھ کی آمد سن کر ہی خوش ہو گئے ۔ حالانکہ ہم نے دیکھنا یہ نہیں کہ ہمیں آمد کتنی ہوئی بلکہ ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ ہمارا خرچ کتنا ہوا۔ اب تمیں لاکھ کی جائیداد ہے۔ اگر دس فیصدی بھی منافع لگایا جائے تب بھی چھ لاکھ منافع ہونا چاہیے۔ مگر کہ وہ بہر حال چونکہ یہ ایک نیک قدم اُٹھا ہے اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ محمد آباد میں ایک ٹا مڈل سکول قائم کیا جائے ۔ چنانچہ میں نے یہاں کے افسروں سے کہا ہے کہ وہ اس جگہ مڈل اسکول قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اِسی طرح میں نے فیصلہ کیا ہے کہ گنزی میں ایک ہوسٹل بنایا جائے جس میں لڑ کے رہا کریں اور احمدی اُستاد اُن کی نگرانی کریں۔ اس طرح آہستہ آہستہ تعلیمی لحاظ سے اس علاقہ کے احمدیوں کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ اگر یہاں ایک اچھا مڈل اسکول بن جائے تو ہو سکتا ہے کہ بعد میں اسے ترقی دے کر میٹرک تک پہنچا دیا جائے۔ اردگرد کے لڑکے پرائمری پاس کر کے یہیں تعلیم کے لیے آ جایا کریں گے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے اس اسکول کو ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ ہوسٹل کے متعلق تجویز یہی ہے