خطبات محمود (جلد 35) — Page 191
1954ء 191 خطبات محمود جھوٹ بولنا چاہو تو تم سوچو گے کہ میں کس کا نام لوں اور کہوں کہ میں اُس کے پاس بیٹھا تھا۔ پہلے ایک کا نام تمہارے ذہن میں آئے گا پھر تم کہو گے کہ ممکن ہے وہ انکار کر دے۔ اِس لیے کسی ایسے دوست کا نام لینا چاہیے جو میری تائید کرے۔ لیکن سچ کے لیے تمہیں کسی غور کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ کے ساتھ ا۔ پس سیچ ایسی چیز ہے جو کسی کو سکھایا نہیں جاتا اور قوم کا ہر فرد اس نیکی کو بڑی آسانی سے اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔ خواہ خواہ کوئی کتنا غریب ہو، جاہل ہو، علوم و فنون ناواقف ہو وہ سچ بول سکتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ نمازیں پڑھو تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ سکتے ہمیں نماز نہیں آتی۔ ہمیں نماز سکھائی جائے۔ اگر کہا جائے کہ زکوۃ دو تو بعض لوگ کہہ سکتے کہ ہیں کہ ہمارے پاس مال نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ دوسروں کو علم پڑھاؤ تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود جاہل ہیں ہم کسی کو کیا پڑھائیں۔ اگر کہا جائے کہ لڑائی کے لیے چلو تو بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لڑنا نہیں جانتے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ سچ بولو تو کوئی مرد اور کوئی عورت ، کوئی بچہ اور کوئی بوڑھا، کوئی جوان اور کوئی اُدھیڑ عمر نہیں کہہ سکتا کہ مجھے سچ بولنا نہیں آتا۔ غرض یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے زیادہ آسان اور کوئی چیز نہیں ۔ مگر قومیں اس کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کی قومیں دنیا کی دوسری اقوام سے اِس بارہ میں بہت آگے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ ذاتی معاملات میں سچ بولتے ہیں ۔ گو قومی معاملات میں وہ بھی جھوٹ بول لیتے ہیں اور کوئی کوئی مجرم، ذاتی معاملہ میں بھی جھوٹ بول لیتا ہے لیکن اکثریت سچ پر قائم رہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اُن کا رُعب بھی قائم ہے اور اثر بھی ہے۔ لیکن ہمارا رعب اور اثر نہیں ۔ مگر کم سے کم ہماری جماعت کو تو یہ مقام حاصل کرنا چاہیے اور سچ بولنے اور سچ کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ الفضل 22 فروری 1958ء) 119 :1 : التوبة 2 : آل عمران : 194 3 : ابن ماجہ كتاب النكاح باب النظر الى المرأة اذا اراد ان يتزوجها