خطبات محمود (جلد 35) — Page 167
$1954 167 خطبات محمود تازہ بتازہ نشانات دیکھے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں پھر بھی ایسی سستی اور غفلت پائی جاتی ہے کہ اس کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔چند سال کی بات ہے میں یہاں آیا تو مجھے پتا لگا کہ اس علاقہ میں چار آدمی ایسے ہیں جو ایک ٹھگ کی خفیہ جماعت میں شامل ہیں اور اس کو اپنا پیر سمجھتے ہیں۔مجھے اس کا پتا تھا تی کیونکہ میں اُسے قادیان سے دو دفعہ نکال چکا تھا۔اور ایک دفعہ تو ایسے الزامات میں میں۔اسے نکالا تھا کہ جنہیں سن کر بھی گھن آتی تھی۔اُس کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ آپ میں سے کسی کے پاس بیٹھے گا تو کہے گا مجھے خواب آئی ہے کہ آپ کو کوئی بہت بڑا درجہ ملنے والا ہے۔اب اگر آپ کا تقوی اچھا ہے تو آپ فوراً کہیں گے کہ میاں! درجہ دینے والا تو ی خُدا ہے۔اگر اس نے مجھے کوئی درجہ دینا ہے تو وہ مجھے کیوں نہیں بتا تا؟ آپ کو اُس نے کیوں کی بتا دیا کہ مجھے درجہ ملنے والا ہے؟ مجھے ہمیشہ بیسیوں غیر احمدیوں کے خطوط ملتے رہتے ہیں جن کا مضمون یہ ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مرزا صاحب ہمیں خواب میں ملے ہیں اور انہوں نے آپ کے متعلق کہا ہے کہ آپ ہمارے بچے خلیفہ اور قائمقام ہیں اور ہمیں ہدایت کی ہے کہ آپ ان کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ وہ آپ کو پانچ ہزار روپیہ دے دیں۔میں ہمیشہ اُن کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ وجہ کیا ہے کہ وہ مجھے آ کر آپ کے متعلق یہ ہدایت نہیں دیتے اور آپ کو کہہ دیتے ہیں کہ جا کر پانچ ہزار روپیہ لے لو۔اگر وہ مجھے آ کر کہیں تو پانچ ہزار کیا !! میں دس ہزار بھی دینے کے لیے تیار ہوں مگر انہوں نے آپ کا انتخاب کس بنا پر کیا ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ مجھے آکر کہتے ، آپ کو کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح جس کے اندر سچا تقوی پایا جاتا ہے وہ تو یہ جواب دے دیتا ہے کہ اگر خدا نے مجھے مینجر بنانا تھا یا میری تجارت کو کامیاب کرنا تھا تو مجھے کیوں نہ کہا آپ کو یہ خبر کیوں دی؟ لیکن لالچی آدمی اتنی سی بات پر خوش ہو جاتا ہے اور اُسے بزرگ قرار دینے لگ جاتا ہے۔اُس نے ہمارے کئی افسروں کو اس طرح کی خبریں دینی شروع کر دیں کہ فلاں پر عذاب آ جائے گا اور تم اُس کی جگہ افسر مقرر کر دیئے جاؤ گے۔میں اُن دنوں محمود آباد گیا اور ایک دن اتفاقاً کسی کام کے لیے باہر نکلا تو میری نظر اس پر پڑ گئی۔اس نے مجھے دیکھا