خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 158

$1954 158 خطبات محمود تدابیر کریں گے، اپنی تنظیم کو زیادہ مؤثر بنائیں گے، اپنی اخلاقی اصلاح کے لیے سکیمیں سوچیں گے، غرباء کی ترقی کے لیے پروگرام تجویز کریں گے۔غرض وہ قومی ترقی کے لیے اس اجتماع سے بہت کچھ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔گو افسوس ہے کہ آجکل مسلمانوں میں جمعہ کے اجتماع - اس رنگ میں فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا۔اپنے اندر ہی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب خطبہ ہو رہا ہو تو امام کی طرف منہ کر کے بیٹھو اور اُس کی باتوں کو توجہ سے سنو 2 مگر بعض لوگ اس وقت امام کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھے ہیں اور پھر ذرا کوئی آہٹ آ جائے یا چوہے کے ملنے سے ہی کھٹکا ہو جائے تو سب اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تا کہ چوہے کے ملنے سے جو کھٹکا ہوا ہے اُس کی برکت سے وہ محروم نہ رہیں۔گویا جمعہ کی جو غرض ہے کہ خطیب کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اُس سے فائدہ اُٹھایا جائے اُس سے بہت کم لوگ حصہ لیتے ہیں۔یہاں تک کہ ہماری جماعت میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور کئی دفعہ انہیں ٹوکنا پڑتا ہے۔باقی رہی وہ روایت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے اگر وہ درست ہے تو اس نحوست سے مراد صرف یہ نحوست تھی کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی ورنہ جب خدا تعالیٰ نے خود تمام دنوں کو بابرکت کیا ہے اور تمام دنوں میں اپنی صفات کا اظہار کیا ہے تو اس کی موجودگی میں اگر کوئی روایت اس کے خلاف ہمارے سامنے آئے گی تو ہم کہیں گے کہ روایت بیان کرنے والے کو غلطی لگی ہے۔ہم ایسی روایت کو تسلیم نہیں کر سکتے۔اور یا پھر ہم یہ کہیں گے کہ ہر انسان کو بشریت کی وجہ سے بعض دفعہ کسی بات میں وہم ہو جاتا ہے۔ممکن ہے کہ ایسا ہی کوئی وہم منگل کی کسی دہشت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہو گیا ہو مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دن منحوس ہے۔ہم اس روایت میں یا تو راوی کو جھوٹا کہیں گے اور یا پھر یہ کہیں گے کہ شاید بشریت کے تقاضا کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بارہ میں کوئی وہم ہو گیا ہو ورنہ مسئلہ کے طور پر یہی حقیقت ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ سارے کے سارے دن بابرکت ہوتے ہیں مگر مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے ایک ایک کر کے دنوں ہے۔