خطبات محمود (جلد 35) — Page 159
$1954 159 خطبات محمود کو منحوس کہنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامل طور پر نحوست اور ادبار کے نیچے آ گئے۔ان کی مثال بالکل اُس پٹھان کی طرح ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ محنت مزدوری کرنے پنجاب میں آیا تو اُس نے خیال کیا کہ روٹی تو مہنگی ملے گی ، چلو خربوزے خرید لیں۔ایک زمانہ میں خربوزے بڑے سستے ہوا کرتے تھے۔میں نے خود پیسے پیسے، دودو پیسے ونی (یعنی دوسیر ) خربوزے پکتے دیکھے ہیں۔اس نے چار پانچ سیر خربوزے خرید لیے۔مگر گجا افغانستان کا سردہ جو نہایت میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے اور گجا پنجاب کا خربوزہ جو ایک پھپھی سی غذا ہوتی ہے۔اُس نے ایک خربوزہ کھایا تو وہ نہایت پھیکا اور بدمزا تھا۔اُسے غصہ آیا۔اُس نے سب خربوزوں کو پھینک کر اُن پر پیشاب کر دیا۔دو چار گھنٹے اُس نے کدال چلائی۔پسینہ نکلا اور بھوک لگی تو سوچنے لگا کہ اب کیا کروں؟ میں نے تو سب خربوزوں پر پیشاب کر دیا ہے۔میں اب کیسے کھاؤں؟ مگر جب بھوک نے زیادہ بے تاب کر دیا تو وہ خربوزوں کے پاس آیا اور ایک خربوزہ اُٹھا کر اور اُسے اِدھر اُدھر سے دیکھ کر کہنے لگا کہ اس پر تو پیشاب نہیں پڑا اور اُسے کھا گیا۔پھر دوبارہ کام شروع کیا تو تھوڑی دیر کے بعد پھر بھوک لگی۔اس پر وہ پھر آیا اور ایک دو خربوزے اُٹھا کر کہنے لگا کہ ان پر تو پیشاب نہیں پڑا تھا۔اس طرح آہستہ آہستہ سوائے ایک خربوزے کے باقی سب خربوزے اُس نے کھا لیے۔مگر کچھ دیر کے بعد پھر بھوک نے ستایا۔آخر وہ پھر اُس خربوزہ کے پاس آیا اور سوچ سوچ کر کہنے لگا کہ میں بھی کتنا احمق ہوں جن خربوزوں پر پیشاب پڑا تھا اُن کو تو میں نے پہلے کھا لیا اور جس پر پیشاب نہیں پڑا تھا وہ ابھی باقی ہے اور یہ کہتے ہی اُس نے یہ خربوزہ بھی کھا لیا۔یہی لوگوں کی حالت ہے۔مگر اُس نے تو پھر بھی اپنے وہم سے فائدہ اُٹھایا اور خربوزے کھا کر اپنی بھوک دور کر لی مگر مسلمان اپنے وہم سے ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔کہتے ہیں ہفتہ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، اتوار پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، پیر پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، منگل پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، بدھ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے، جمعرات پر بھی پیشاب پڑا ہے، جمعہ پر بھی پیشاب پڑا ہوا ہے اور پھر چادر اوڑھ کر سو گئے۔اب ساری اقتصادیات میں ترقی کر رہی ہے، سیاسیات میں ترقی کر رہی ہے، اخلاقیات میں ترقی ہوا دنیا