خطبات محمود (جلد 35) — Page 153
خطبات محمود 153 $1954 کرنی چاہیے جو ہمارے متعلق لوگوں کے قلوب میں پائے جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں فیروز پور کے ایک مولوی صاحب نے کسی گاؤں میں تقریر کی اور اس میں کہا دیکھو! میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مرزا صاحب محض دھوکا دیتے ہیں۔جب وہ کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں تو اس سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے بلکہ مرزا صاحب ہوتے ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو اس سے مراد بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ) مرزا صاحب خاتم النبین ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے تو اس کی سے بھی خدا مراد نہیں ہوتا بلکہ ( نَعُوذُ بِاللهِ ) مرزا صاحب مراد ہوتے ہیں اور وہ انہیں خدا کہتے ہیں۔پھر کہنے لگا میں تمہیں ایک واقعہ سناؤں۔میں قادیان گیا۔میرے ساتھ ایک اور مولوی بھی تھا۔ہمیں مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا۔میں جانتا تھا کہ مرزا صاحب کھانے پر جادو کر کے کھلاتے ہیں جس سے وہ اُن کے دعووں کو ماننے لگ جاتا ہے۔چنانچہ کھانا آیا تو میں نے نہ کھایا لیکن میرے ساتھی نے کھا لیا۔صبح کی نماز کے بعد ناشتہ آیا جس میں حلوا رکھا ہوا تھا۔میں نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ یہ حلوا نہیں کھانا مگر اُس نے میری بات نہ مانی اور حلوا کھا لیا۔حلوا کھاتے ہی وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا بس میرا دل صاف ہو گیا ہے۔مرزا صاحب جو کچھ کہتے ہیں بالکل درست درست ہے۔اس کے بعد شکرم 4 آئی جس میں مرزا صاحب اور مولوی نورالدین صاحب دونوں بیٹھ گئے اور ہمیں بھی اُس میں بٹھا لیا۔حلوا مولوی نورالدین صاحب پکایا کرتے تھے اور وہی جادو پھونک کر لوگوں کو کھلایا کرتے تھے۔جب سیر کرتے کرتے : قادیان سے باہر نکلے تو مرزا صاحب نے کہا اصل بات یہ ہے کہ خدا نے مجھے محمد بنا دیا ہے۔میرا دوسرا ساتھی کہنے لگا حضرت بالکل ٹھیک ہے لیکن میں چپ کر کے بیٹھا رہا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے ختم نبوت کا مسئلہ بالکل درست ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے۔انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کہنا شروع کر دیا ہے حالانکہ اصل میں میں خاتم النبیین ہوں۔میرے ساتھی نے پھر اس کی تصدیق کر دی لیکن میں