خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 149

1954ء 149 خطبات محمود ہمیں چونکہ احساس تھا کہ گوشت کو کسی نہ کسی طرح ضرور تقسیم کرنا چاہیے اس لیے ہم نے بعض تھا کو لوگوں سے مل کر اس کی تقسیم کا انتظام کر لیا تھا مگر ادھر دنبہ پر چھری پھیری اور اُدھر میں نے دیکھا کہ بدوی اُس دنبہ کو گھسیٹتے چلے جا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے جو لوگ یہ نظارہ دیکھ کر آتے ہیں وہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے یہ قربانی بغیر کسی حکمت کے رکھی ہے۔ کیوں نہ اس روپیہ کے بدلہ میں کالج جاری کیے جائیں اور اس طرح قومی ترقی کے سامان کیسے جائیں ۔ فرض کرو پچاس ہزار بکرا ذبح ہوتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ لاکھ کا بکرا ذبح ہو جاتا ہے۔ جو گائیں وغیرہ ہوتی ہیں اُن سب کو ملا کر اندازاً سات آٹھ لاکھ روپیہ ان قربانیوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ پس لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ روپیہ کی قربانیوں پر ضائع کیا جائے کیوں نہ اس کے بدلہ میں عربوں کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور مکہ مکرمہ میں کالج اور سکول وغیرہ جاری کر دیئے جائیں۔ میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ بعض دفعہ قوم پر ایسے اوقات بھی آیا کرتے ہیں جب اسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو بظاہر بے فائدہ ہوتی ہیں۔ اسی کی ٹریننگ کے لیے اسلام نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے تا کہ ایسے مواقع پر خواہ انہیں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے وہ قربانی کرتے چلے جائیں۔ بعض دفعہ کسی ملک میں ایک اکیلا شخص ہوتا ہے اور وہاں کی حکومت مذہب کے خلاف کوئی جابرانہ حکم دے دیتی ہے جس سے وہ اسلام کو مٹانا چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ یہ نہیں کہے گا کہ جب قربانی کا کوئی فائدہ نہیں تو میں اپنے آپ کو کیوں قربان کروں؟ بلکہ وہ فوراً قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے گا کیونکہ جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہیں کرے گا دوسروں کے دلوں میں قربانی کی تحریک پیدا نہیں ہو گی۔ وہ اگر پھانسی پر چڑھ جائے گا تو پھر کوئی دوسرا شخص پھانسی کے تختہ پر چڑھنے کے لیے نکل آئے گا وہ دوسرا شخص پھانسی دیا جائے گا تو تیسرا شخص نکل آئے گا اور اس طرح قدم بقدم تمام قوم میں ایسا جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار کھڑے ہو جائیں گے اور گھر کو شکست کھانے پر مجبور کر دیں گے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوای فرمایا تو اُس وقت جن