خطبات محمود (جلد 35) — Page 135
$1954 135 خطبات محمود ذمہ داری ایک حد تک باقی جماعت پر بھی ہے۔ہر شخص جو خراب ہوتا ہے وہ دفعہ نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور جب کوئی خرابی کی طرف اپنا قدم بڑھانے لگتا ہے تو کیوں جماعت کے لوگ اُسے نہیں سمجھاتے؟ کیوں اُس کی منت سماجت نہیں کرتے؟ کیوں اُن کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے؟ اُن کا فرض ہے کہ وہ اُسے سمجھا ئیں، اُسے نصیحت کریں، اُسے تحریص و ترغیب دلائیں، اُس کے دینی احساسات کو بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ہاں! کچھ عرصہ کے بعد جب دیکھیں کہ وہ اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا تو اُسے چھوڑ دیں اور سمجھ لیں کہ اب وہ روحانی لحاظ سے مر چکا ہے۔جیسے پانی میں ڈوبنے والا جب ڈوب جاتا ہے تو پانی سے اگر ڈیڑھ دو گھنٹے کے اندراندر اسے نکال لیا جائے اور اسے مصنوعی تنفس دلایا جائے تو طلب کہتی ہے کہ کئی لوگ بچ جاتے ہیں اور ڈوبنے کے دس پندرہ منٹ کے اندراندر اگر اُسے نکال لیا جائے تو اکثر لوگ بچ جاتے ہیں۔لیکن اگر چوبیس گھنٹے گزر جائیں یا دو تین دن گزر جائیں تو پھر اُسے زندہ کرنے کی ہر کوشش بیکار ہوتی ہے۔اسی طرح اگر تمہارا کوئی بھائی کمزور ہے تو تم اُسے سمجھانے کی کوشش کرو، اُس کے لیے دعائیں کرو، اُسے کی وعظ اور نصیحت کرو۔لیکن جس طرح وہ شخص احمق سمجھا جائے گا جس کے بھائی کو ڈوبے ہوئے دو تین دن گزر چکے ہیں اور وہ اُس کے ہاتھ ہلا رہا ہے اور اُسے مصنوعی تنفس دلا رہا ہے اس کی طرح وہ شخص بھی احمق سمجھا جائے گا جو سالہا سال تک سمجھاتا چلا جاتا ہے اور پھر یقین رکھتا ہے کہ ابھی وہ زندہ ہے۔جس طرح ڈوبنے کے دس پندرہ منٹ یا ڈیڑھ دو گھنٹہ کے اندر اندر بچانے کی کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے طب کہتی ہے کہ دو گھنٹے تک بعض ڈوبنے والے زندہ ہو سکتے ہیں۔اسی طرح طب یہ بھی کہتی ہے کہ اگر چوبیس گھنٹے کے بعد کوئی شخص ڈوبنے والے کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنا وقت ضائع کرتا ہے کیونکہ اتنے عرصہ میں اُس کی حقیقی موت واقع ہو چکی ہوتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی کمزوری دکھائے تو سب دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اُس کے پاس جائیں اور اُسے سمجھا ئیں لیکن چھ مہینے سال کے بعد بھی اگر وہ اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اُسے مُردہ قرار دے دیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ دس سال ہو گئے فلاں کی ایسی حالت ہے