خطبات محمود (جلد 35) — Page 4
خطبات محمود $1954 اور غیر مذاہب میں تبلیغ اسلام ہو۔یہ بھی کوئی مشکل نہیں۔پانچ فیصدی زیادہ کام کرنا کوئی ای مشکل امر نہیں ہوتا۔اگر کسی نے ایک کام میں بیس منٹ خرچ کرنے تھے اور وہ اکیس منٹ کی خرچ کر لے تو اس کے لیے یہ کونسی مشکل بات ہے۔یا اگر کسی شخص نے ایک کام پر سو منٹ خرچ کرنے تھے اور وہ اس میں ایک سو پانچ منٹ خرچ کرے تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔اگر کسی نے ایک جگہ سو دن ٹھہر نا تھا اور وہ ایک سو پانچ دن ٹھہر جائے تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔اس چیز کا زائد فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر پانچ فیصدی زیادہ محنت کرنے کی عادت پیدا ہو جائے گی جو اس کے دوسرے کئی کاموں میں مفید ثابت ہو گی۔اس تجویز پر عمل کرنے سے بھی سلسلہ کی آمد بڑھ سکتی ہے اور دوستوں کو سلسلہ کے کاموں میں شمولیت کا موقع مل سکتا ہے۔پھر ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر آدمی اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ کام کرے اور اس سے جو آمد ہو وہ اشاعت اسلام کے لیے دے۔چنانچہ دو عورتوں کی طرف سے کچھ چندہ آبھی چکا ہے۔ایک عورت نے میری اس تقریر کے بعد کچھ کام کیا۔اس سے دس آنہ کی آمد ہوئی جو اس نے تحریک جدید میں دی۔اور دوسری عورت کا میں جلسہ پر اپنی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں کہ اس نے میری اس تقریر کے بعد تین کارڈ لکھ کر دیئے اور اس کے بدلہ میں تین پیسے حاصل کیے اور یہ تین پیسے اس نے تحریک جدید میں دے دیئے۔اگر ہر شخص کوئی نہ کوئی کام شروع کر دے اور اس کی آمد اشاعت اسلام کے لیے دے تو سلسلہ کی آمد میں کافی ترقی ہوسکتی ہے۔مثلاً میں نے اچھے اچھے افسروں کے متعلق معلوم کیا ہے انہوں نے میری اس تقریر کے بعد اپنے لیے بعض کام سوچے ہیں۔مثلاً بعض افسروں نے یہ تجویز کیا ہے کہ وہ کسی دن اسٹیشن پر چلے جائیں گے اور مسافروں کا سامان گاڑی سے باہر نکال کر رکھ دیں گے اور اس طرح کچھ نہ کچھ آمد پیدا کریں گے۔گویا کسی نے کوئی کام سوچا ہے اور کسی نے کوئی۔اگر یہ روح جماعت میں پیدا ہو جائے تو چاہے اس کے نتیجہ میں کتنی کم آمد پیدا ہو کم از کم اس کا اس قدر فائدہ تو ضرور ہوگا کہ جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا ہو گی۔دوسرے غریب اور امیر میں جو فرق آجکل پایا جاتا ہے وہ دُور ہو جائے گا۔تیسرے ہر ایک شخص کی ذہنیت اس طرف مائل ہو گی کہ اسے اپنے مقررہ رستہ سے ہٹ کر بھی کوئی کام کرنا چاہیے۔میں اپنے لیے بھی سوچ