خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 113

$1954 113 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے کہا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جاؤ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان کفار کو تھوڑے نظر آنے لگ گئے اور ان کا جوش کچھ عرصہ کے لیے فرد ہو گیا۔لیکن جب پھر مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور کفار نے ایذارسانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے صرف چند درجن تھے لیکن دوسرے دن دیکھا گیا کہ مکہ کے دو محلے خالی ہو گئے ہیں۔گویا مکہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ظاہری طور پر اسلام نہیں لائے تھے لیکن دل سے مسلمان تھے اور وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔غرض جب مسلمانوں کے ایک حصہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ میں مسلمان پھر تھوڑے ہو گئے اور کفار کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔اس کے بعد جب مکہ والوں نے دیکھا کہ اسلام اب مکہ سے باہر بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے تو ان میں نئی قسم کا جوش پیدا ہو گیا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کر لیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔پس۔مختلف تجاویز تھیں جن پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمل کیا۔اگر مسلمانوں کو ایذا ہی پر ابتدا میں صبر کا حکم نہ ہوتا تو کفار چڑ جاتے اور ایذا دہی میں بڑھ جاتے۔پھر اگر حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم نہ ہوتا تو مسلمانوں کی تعداد مکہ میں بڑھ جاتی اور اس طرح کفار کا جوش بڑھ جاتا۔پھر جب دوبارہ مسلمانوں کی تعداد مکہ میں بڑھ گئی تو آپ اُس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم نہ دیتے تو کفار کا جوش اور بھی زیادہ ہو جاتا وہ ایزا دہی میں پہلے سے بھی بڑھ جاتے۔پھر جب صنادید عرب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ بھیج دیا۔پھر جب کفار نے مدینہ پر بھی حملہ کیا تو خدا تعالیٰ نے کہا تم ان سے لڑائی کرو۔اُس وقت مسلمان اگر ہاتھ میں تسبیجیں پکڑ کر آیات قرآنیہ کا ورد کرنا شروع کر دیتے تو انہوں نے تباہ ہو جانا تھا کیونکہ وہ وقت لڑائی کا تھا کسی اور کام کا نہیں تھا۔چنانچہ پہلے یہ حکم دیا کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کرو۔پھر ایک وقت کے بعد جا کر مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم ہوا اور پھر یہ حکم ہوا کہ دشمن کے گھروں پر جا کر ان پر حملہ کرو۔اگر ان تجاویز پر عمل نہ کیا جاتا تو مسلمان بھی ترقی