خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 102

$1954 102 خطبات محمود اعتراض کیا جاتا ہے اور ادھر اس مرکز کے بنانے کی جو اصل غرض تھی کہ دیندار لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں، وہ دین کی اشاعت کریں اور اس کی خاطر قربانی کریں وہ بھی پوری نہ ہو تو ایسا ان کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ سکیم پوری نہ ہوئی۔میرے پاس متواتر ایسی شکایات پہنچی ہیں کہ یہاں ایک خاصا طبقہ ایسا آباد ہو گیا ہے کہ جن کی غرض محض یہ ہے کہ وہ باہر رہ کر کمائی نہیں کر سکتے ، یہاں بیٹھ کر وہ روزی کما سکیں گے لیکن یہ جگہ روٹی کمانے کے لئے نہیں بنائی گئی۔ایسے لوگوں کو جلد یا بدیر ربوہ سے نکلنا پڑے گا اور اگر وہ یہاں سے نہیں نکلیں گے تو ہم اُن سے لین دین بند کر دیں گے، اُن سے سودا نہیں خریدیں گے، اُن کے جنازوں میں شامل نہیں ہوں گے۔وہ بیشک یہاں رہیں لیکن ہمارا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔اور جب سوائے منافقوں کے اُن سے کوئی احمدی سودا نہیں لے گا تو لازمی طور پر غیر لوگ ان سے دوستی رکھیں گے اور اس سے دوسرے لوگوں کو یہ پتا لگ جائے گا کہ وہ احمدیوں کے نہیں غیروں کے ہیں اور اس سے ہمیں فائدہ پہنچ جائے گا۔میں پریذیڈنٹوں کو بھی یہ نوٹس دیتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں۔میرے پاس یہ شکایت پہنچی ہے کہ پریذیڈنٹ یونہی بنا دیئے جاتے ہیں اور گو ناظر صاحب اعلیٰ نے کہا ہے کہ نمازیوں کو پریذیڈنٹ بنایا جاتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ پارٹی بازی کی وجہ سے بعض لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے۔ابھی ناظر صاحب بیت المال نے مجھے لکھا ہے کہ میں نے پریذیڈنٹوں کو آٹھ دس پچٹھیاں لکھی ہیں لیکن ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں آیا۔اگر یہ لوگ نمازی ہوتے تو ان میں کام کرنے اور قربانی کرنے کا شوق ہوتا اور اگر ان کے اندر کام اور قربانی کا شوق نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اور پھر منافق ہیں۔آخر منافق بھی تو دکھاوے کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں۔بہر حال اس چیز کی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس کا پہلا فرض پریذیڈنٹوں پر عائد ہوتا ہے جو اس میں بالکل ناکام رہے ہیں۔آخر پریذیڈنٹ آج نہیں بنائے گئے سالہا سال سے پریذیڈنٹ بنتے چلے آئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان ساری منافقتوں کے ذمہ دار پریذیڈنٹ ہیں۔وہ رئیس المؤمنین نہیں بلکہ رئیس المنافقین ہیں کیونکہ اُن کے ہوتے ہوئے منافقت پہنی ہے۔یہاں کے لوگوں نے سلسلہ سے فائدہ اُٹھایا ہے، ہم