خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 103

$1954 103 خطبات محمود سے منافع لیا ہے لیکن سلسلہ کو چندہ نہیں دیا۔ایسے لوگ صرف پریذیڈنٹوں کی وجہ سے یہاں آباد ہو گئے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔نظارت امور عامہ کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کا کی جائزہ لے۔اگر ان کی غلطیاں ثابت ہو گئیں تو انہیں بھی ربوہ سے نکلنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے باوجود سلسلہ سے تنخواہ لینے کے دیانتداری سے اپنے فرض کو پورا نہیں کیا۔اگر وہ تنخواہ لینے کے باوجود اپنے فرض کو ادا نہیں کرتے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ منافق لوگ انہیں پانچ روپیہ دیتے ہیں اور اپنے حق میں فیصلہ کروا لیتے ہیں۔لوگوں میں تو یہ شکوہ عام ہے کہ نظارت امور عامہ کے کارکن روپیہ لے کر کام کر دیتے ہیں لیکن میں اس کا ہمیشہ انکار کرتا آیا ہوں۔اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو مجبوراً مجھے بھی یہ بات ماننی پڑے گی کہ وہ پیسے لے کر لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس میں ناجائز طرفداری ہوتی ہے، ناجائز رعایت ہوتی ہے اور ناجائز معافی ہوتی ہے حالانکہ ناجائز رعایت بھی ناجائز ہے اور ناجائز سزا بھی ناجائز ہے۔پس تم یہاں رہ کر نیک نمونہ دکھاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔ہماری جماعت اس وقت کتنی مشکلات میں سے گزر رہی ہے سارے لوگ اس کے خلاف ہیں، یہودی ہمارے خلاف ہیں، عیسائی ہمارے خلاف ہیں، ہندو ہمارے خلاف ہیں، زرتشتی ہمارے خلاف ہیں، مسلمان کہلانے والے بھی بطور فرقہ کے ہمارے خلاف ہیں۔ویسے افراد کے لحاظ سے ان میں انصاف پسند بھی ہیں۔غرض تم ساری دنیا سے لڑائی مول لے کر یہاں جمع ہوئے اور پھر بھی تقوی، طہارت اور عمل و انصاف اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے تو تمہاری زندگی ایسی ہی ہوئی کہ اپنوں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا اور غیروں نے بھی تمہیں ٹھکرا دیا۔حالانکہ دنیا میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو اپنے ٹھکرا دیتے ہیں تو اُسے غیروں کے پاس پناہ عامل جاتی ہے اور اگر غیر ٹھکرا دیتے ہیں تو اپنے اُس کی امداد کرتے ہیں لیکن تمہیں غیروں بھی ٹھکرا دیا اور اپنوں نے بھی ٹھکرا دیا۔پھر تمہیں یہاں رہنے کا کیا فائدہ حاصل ہوا؟ ایسے حالات میں ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کر لو۔لیکن یہاں تو جھگڑا ہی یہ ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کیا۔اگر تم اس کی رضا کو حاصل کر لو تو ساری مصیبتیں اور کوفتیں دور ہو جائیں اور راحت کے سامان پیدا ہو