خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 70

$1954 70 خطبات محمود داخل ہو جائیں تو شہادت کا موقع مل جائے گا۔ایک نوجوان نے مجھے لکھا کہ میں دل سے دس سال سے احمدی ہوں۔اس فتنہ کے دوران میں میں نے خیال کیا کہ اب احمدیت کی خاطر جان دینے کا وقت آ گیا ہے۔اگر میں اب بیعت نہیں کروں گا تو کب کروں گا؟ پس اصل چیز ایمان کا پیدا ہو جانا ہے۔جب کسی کے اندر ایمان پیدا ہو جائے تو اُس کو صداقت کی خاطر قربانیاں کرنے سے کوئی شخص روک نہیں سکتا۔ایمان پیدا ہو جانے کے بعد سب گڑھے، کانٹے اور سمندر جو بھی رستہ میں آئیں، آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔پس ایک دفعہ تمام افراد کے اندر قربانی کا ذوق پیدا کرو اور چھوٹے بڑوں کو تحریک جدید میں شامل کرو۔چھوٹوں کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرو۔چاہے تم اُن کی طرف سے ایک ایک پیسہ ہی دو لیکن اُن کو تحریک جدید میں شریک ضرور کرو۔یہ درست ہے کہ اگر وہ الگ طور پر حصہ لیتے تو ہم اُن سے کہتے دوسروں سے مل کر پانچ روپیہ دے دو اور تحریک جدید میں شامل ہو جاؤ۔لیکن جب اُن کا باپ اور ماں اس میں شریک ہیں تو ان کے لیے کوئی مشکل نہیں۔باپ یا ماں ان کی طرف سے اپنے چندہ کے ساتھ چار چار آنہ دے کر اُن کو ساتھ ملا لیں اور پھر ان کی طرف سے چندہ لکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں بتائیں کہ ان کے لیے اس قسم کے چندوں میں شامل ہونا ضروری ہے۔پھر اب تو پندرہ بیس والی روک بھی نہیں رہی۔اگر کوئی شخص اپنی طالب علمی میں چندہ دیتا ہے تو وہ چندہ اب آئندہ تحریک جدید میں حصہ لینے میں روک نہیں بنے گا۔پہلے چھوٹے بچوں سے چندہ لینے سے دفتر والے گھبراتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان سے چندہ لے لیا تو تحریک جدید کی مقرر کردہ مدت دس سال یا انہیں کی سال ان کی طالب علمی میں ہی گزر جائے گی۔جب یہ جوان ہوں گے اور کمانے لگیں گے تو ہم ان سے چندہ نہیں لے سکیں گے لیکن اب تو یہ روک بھی نہیں کیونکہ اب یہ چندہ ہمیشہ کے لیے ہے۔دسویں سال کے بعد جب میں نے دوبارہ تحریک کی تو مجھے خیال تھا کہ چندہ میں کمی آ جائے گی۔اسی طرح دس سال کے ختم ہونے پر بھی میں سمجھتا ہوں کہ کچھ کمزوری پیدا ہو گی مگر جو لوگ اس دفعہ شامل ہو گئے تو اس کے بعد کمزوری ایمان کی وجہ سے