خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 65

$1954 65 خطبات محمود حاصل ہوتی ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نظر آ جاتا ہے۔جب اُسے خدا تعالیٰ نظر آ جاتا ہے تو دنیا کی سب چیزیں اُس کے سامنے سے ہٹ جاتی ہیں۔دنیا کی کوئی چیز اُس کے اندر غم پیدا نہیں کرتی۔کوئی چیز اُس کے دل کی طاقتوں کو توڑتی نہیں۔غرض یورپ کے لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اُن کے پاس بیشک دولت ہے لیکن پھر بھی انہیں دل کا چین نصیب نہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے اُن کے اندر خواہش پیدا ہو رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان تک خدا تعالیٰ کی آواز پہنچائی جائے تا وہ بھی اس پر غور کریں۔اور غرباء میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے قبول کر لیتے ہیں۔اسی طرح تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اس طرف توجہ ہو رہی ہے۔یہ چیز جو غیر ممالک میں پیدا ہو رہی ہے اسے پورا کرنا ہماری جماعت کے سوا اور کسی کا کام نہیں۔ہم بیشک تھوڑے ہیں، غریب ہیں، کنگال ہیں۔ہم میں سے بڑے سے بڑا دولت مند آدمی یورپ کے درمیانے درجہ کے لوگوں سے بھی حیثیت کا ہے۔اُن کے ہاں درمیانے درجے کا آدمی لاکھ پتی ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں صرف چند ایسے آدمی ہیں جن کے پاس لاکھوں روپے ہیں اور وہ بھی لاکھ پتی نہیں کہلا سکتے۔لاکھ پتی وہ ہوتا ہے جس کے پاس تھیں چالیس لاکھ روپیہ ہو۔پھر ان میں بہت سے کروڑ پتی کی اور ارب پتی بھی ہیں اور ان کے پاس چھپیں چھپیں، تمیں تمہیں ارب بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ ہے لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے ہماری ہی جماعت کو توفیق دی ہے کہ اس کے قربانی کرنے والے افراد اس رنگ میں قربانی کرتے ہیں کہ حیرت آ جاتی ہے۔لیکن ان کی قربانی ہمارے لیے تسلی کا موجب نہیں ہو سکتی۔کیونکہ جماعت کے بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ان کے سامنے معجزات بھی ہیں، نشانات بھی ہیں، احمدیت کی تعلیم بھی ہے اور ہم نے خدا تعالیٰ کو کھینچ کر اُن کے سامنے کر دیا ہے لیکن اُن کے دل کی رگر ہیں ابھی کھلی نہیں۔جو وعدے آتے ہیں اُن سے بھی یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔دفتر والوں نے وعدوں کے فارموں پر ایک خانہ ماہوار آمد کا بھی بنایا ہوا ہے۔اُس خانہ کی وجہ سے قربانی کرنے والوں کی قربانی کا معیار واضح ہو جاتا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ناموں کے آگے لکھا ہوا ہوتا ہے ماہوار آمد پچاس روپے، وعدہ تحریک جدید تمیں روپے، چالیس روپے یا پینتالیس روپے اور بعض