خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 53

$1954 53 53 خطبات محمود وہ وعدے 16 فروری کو ڈاک میں پڑیں گے اور 17 ، 18 یا 19 تاریخ کو یہاں پہنچیں گے۔پھر بعض دیہات میں ہفتہ میں ایک دفعہ ڈاک جاتی ہے۔اس لیے وہاں کی جماعتوں کے وعدے 22 یا 23 کو یہاں پہنچیں گے۔گویا ابھی وعدوں کی میعاد میں پندرہ دن یقینی ہیں لیکن پچھلے سال کے وعدوں کی رفتار اگر قائم رہتی تو ہم سمجھتے باقی دنوں میں وعدے پچھلے سال تک پہنچ جائیں گے۔لیکن پچھلے سال کے وعدوں کی رفتار کے لحاظ سے بھی ابھی ایک لاکھ چالیس ہزار کے وعدے باقی ہیں۔پچھلے سال ان دنوں میں تحریک جدید کے وعدے بڑی سرعت سے بڑھے تھے۔پچھلے سال کی کاپی دیکھی گئی تو یکم فروری کو نو ہزار آٹھ سو کے وعدے آئے تھے اس سال صرف تیرہ سو کے وعدے آئے ہیں۔گویا ایک ہی دن میں ساڑھے آٹھ ہزار کا فرق پڑ گیا۔چونکہ مجھے دو راول کے وعدوں کی اطلاع ابھی نہیں آئی اور نہ آیا کرتی ہے، دور دوم کے وعدوں کی اطلاع آئی ہے اور پہلے بھی آیا کرتی تھی اس لیے دور دوم کے وعدوں کی تی رفتار پر قیاس کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ پچھلے سال اور اس سال کے وعدوں میں چالیس ہزار کا فرق پڑ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ باقی پندرہ دنوں میں اور کتنا فرق پڑے گا۔اس کے بعد کچھ وعدے امریکہ کی جماعتوں کے ہیں اور کچھ ویسٹ اور ایسٹ افریقہ کی جماعتوں کے، مگر اُن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور ان وعدوں میں زیادہ فرق پیدا نہیں کرتی کیونکہ ان ممالک میں جماعتیں ابھی بہت کم ہیں سوائے انڈونیشیا کی جماعتوں کے کہ اُن کے وعدوں کی تعداد چالیس ہزار روپیہ (پاکستانی) کے قریب سالانہ ہوتی ہے۔لیکن ہم ان کو اپنے حساب میں شامل نہیں کرتے۔کیونکہ وہاں کام بہت زیادہ ہے اور اس لحاظ سے اخراجات کی بھی زیادہ ہیں۔اس لیے ہم وہاں سے روپیہ مرکز میں نہیں منگواتے بلکہ اُسے وہیں خرچ کرتے ہیں۔اسی طرح ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کی جماعتوں کا چندہ بھی اچھا خاصا ہوتا ہے لیکن ان ان کے علاوہ باقی غیر ملکی جماعتوں کے چندے بہت کم ہوتے ہیں۔بہت زور دینے کے بعد اب انگلستان کی جماعت میں چندہ کی طرف کچھ توجہ پیدا ہوئی ہے اور ایک دو نئے احمدی ایسے ہوئے ہیں جو چندہ دینے لگے ہیں۔پہلے سارے نو مسلم چندہ دینے سے گریز کرتے تھے۔جرمنی سے بھی خط آیا ہے کہ وہاں لوگ چندہ دینے لگ گئے ہیں۔ان کی مالی حالت