خطبات محمود (جلد 35) — Page 54
$1954 54 خطبات محمود سے بہت خراب ہے لیکن بہر حال وہ چندے دے رہے ہیں۔اگر چہ وہ چندہ ان کی آمد کے لحاظ بہت کم ہوتا ہے۔اب ایک دوست نئے احمدی ہوئے ہیں وہ اڑھائی پونڈ یعنی قریباً پچپیس روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔شام کی جماعتوں کے دوست بھی چندہ دیتے ہیں لیکن اب وہاں ایسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں کہ چندہ کی رقوم دوسرے ممالک میں نہیں جاسکتیں۔حکومت کی طرف سے ایسے قواعد مقرر کر دیئے گئے ہیں کہ شاید ملک میں بھی چندہ کی رقوم جمع نہ ہوتی سکیں۔باقی جماعتوں میں چندہ کی فراہمی قریباً صفر ہے۔انڈونیشیا، امریکہ، ایسٹ افریقہ، ویسٹ افریقہ اور ان سے اتر کر شام، یہ ممالک ہیں جن کے اس وقت تک چندے آئے ہیں یا ہمارے حساب میں محسوب ہوتے ہیں۔چھوٹی جماعتوں میں سے سیلون، برما اور ملایا کی جماعتیں ہیں جن کے افراد چندہ دیتے ہیں لیکن چونکہ ان ممالک میں جماعتیں بہت کم تعداد میں ہیں اس لیے چندے بھی کم مقدار میں آتے ہیں۔فی الحال یہ سارا بوجھ پاکستان کی جماعتوں پر ہے۔یا یوں کہہ لو کہ اشاعت اسلام کے لیے چندہ دینے کا فخر ابھی تک صرف پاکستان کی جماعتوں کو حاصل ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی سے کسی نے پوچھا کہ آپ صحابہ میں سے سب سے زیادہ بہادر کس کو سمجھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا۔زیادہ بہادر وہ شخص ہوتا تھا جو لڑائی کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہوتا تھا۔اُس نے کہا کیوں؟ اُس صحابی نے جواب دیا اس لیے کہ کفار جب اسلامی لشکر پر حم کرتے تھے تو وہ جانتے تھے کہ اسلام کی روح رواں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک مرحملہ ہے۔اگر ہم آپ کو مار دیں گے تو اسلام ختم ہو جائے گا۔کفار، اسلام کو خدا تعالیٰ کا مذہب نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ آپ ہی کی ذات کی طرف اسے منسوب کرتے تھے۔اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ ی رہم آپ کو ماریں گے تو اسلام باقی نہیں رہے گا۔اس لیے وہ اپنا سارا زور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچنے میں خرچ کر دیتے تھے۔پس جنگ کی صفوں میں خطرناک ترین جگہ وہ ہوتی تھی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تھے۔چاروں طرف۔دشمن فوج کے بہادر اور جری لوگ اُس جگہ کی طرف لپکتے تھے۔جو لوگ آگے پیچھے ہوتے انہیں