خطبات محمود (جلد 35) — Page 52
$1954 52 خطبات محمود باقی جماعتوں کی طرف سے مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی حتی کہ ربوہ کی جماعت کی طرف سے بھی مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی۔جہاں کی جماعت نے میرا یہ خطبہ 22 جنوری کو سن لیا تھا۔اور نہ اس نے اپنی کوششوں کے نتیجہ سے مجھے مطلع کیا ہے اور عملاً میں دیکھتا ہوں کہ اس عرصہ میں بجائے اس کے کہ جو خلیج پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں تھی کم ہوتی ، وہ اور بھی بڑھ گئی ہے۔میرے لاہور جانے سے قبل یہ خلیج آہستہ آہستہ دور ہو رہی تھی اور دور دوم کے پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں صرف ایک ہزار کا فرق رہ گیا تھا۔لیکن دفتر کی طرف سے جو کل رپورٹ ملی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق اب بجائے اور کم ہونے کے، بڑھ گیا ہے اور اب پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں تو ہزار کا فرق ہو گیا ہے۔گویا بجائے ترقی کرنے کے آٹھ ہزار کے قریب جماعت اور نیچے گر گئی ہے۔دورِ اوّل والے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ جلد جلد مجھے وعدوں کی رفتار کے متعلق اطلاع بہم پہنچائیں۔وہ خاموشی کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔پندرہ سولہ دن کے بعد مقابلہ کرتے ہیں اور مجھے اطلاع دیتے ہیں لیکن دفتر دوم والے کچھ دنوں سے روزانہ پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور مجھے اطلاع دیتے ہیں۔جس وقت دورِ اوّل کے کارکنوں نے مجھے اطلاع دی تھی اُس وقت دورِ اوّل کے پچھلے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں اکیس ہزار کا فرق تھا۔اب یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب یہ فرق کس قدر۔لیکن اگر پچھلے دنوں دور اول کے وعدوں میں بھی اسی قدر فرق پڑا ہے جس قدر فرق ہے۔دور دوم کے وعدوں میں پڑا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں دوروں کے پچھلے سال کے وعدوں اور اس سال کے وعدوں میں قریباً چالیس ہزار کا فرق پڑ گیا ہے۔یا یوں کہو کہ اس کی سال کے وعدے پچھلے سال سے بیس فیصدی کم آئے ہیں۔جو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی وعدوں کی میعاد میں دس دن اور ہیں اور وعدوں کے آنے میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں کیونکہ چار پانچ دن ڈاک پر بھی لگ جاتے ہیں۔مثلاً جنہوں نے پندرہ فروری کو وعدے لکھوائے ہیں کی حمد اس کے بعد دور اؤل والوں نے رپورٹ کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت دو راول کے گزشتہ سال اور اس سال میں اکتالیس ہزار کا فرق ہے۔