خطبات محمود (جلد 35) — Page 44
$1954 44 خطبات محمود اس ابتلا سے بچ جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں معلوم ہوا کہ وہ اس ابتلا میں ضرور پھنسے گا اور یہ تقدیر مبرم ہے۔مگر پھر بھی آپ دعا کرتے رہے۔آخر ایک دن وہ مرید تائب ہو کر آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا آپ کی دعا پوری ہو گئی۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی نے دریافت کیا کہ دعا کیسے پوری ہوئی؟ تو اس نے بتایا کہ رؤیا میں وہ عورت مجھے ملی اور میں نے اُس سے تعلقات بھی قائم کر لیے۔اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو مجھے اُس سے نفرت پیدا ہو چکی تھی۔اب دیکھو! یہ ایک تقدیر مبرم تھی اور اس نے ضرور پورا ہونا تھا لیکن دعا کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اسے رویا میں پورا کر دیا۔اس طرح تقدیر مبرم بھی پوری ہو گئی اور دعا بھی قبول ہو گئی اور وہ شخص اُن خطرات سے محفوظ ہو گیا جو اُسے آئندہ لاحق ہونے والے تھے۔پس تقدیر مبرم کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ پوری بھی ہو جاتی ہے لیکن دعا کے نتیجہ میں اُس کی شکل بدل جاتی ہے۔17 یا 18 نومبر 1953ء کی بات ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں۔میاں بشیر احمد صاحب اور دردصاحب میرے ساتھ ہیں۔کسی شخص نے مجھے ایک لفافہ لا کر دیا اور کہا کہ یہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کا ہے۔میں نے اس لفافہ کو کھولے بغیر محسوس کیا کہ اس میں کسی عظیم الشان حادثے کی خبر ہے جو چودھری صاحب کی موت کی شکل میں پیش آیا ہے یا کوئی اور بڑا حادثہ ہے۔میں نے درد صاحب سے کہا لفافہ کو جلدی کھولو اور اس میں سے کاغذ نکالو۔دردصاحب نے لفافہ کھولا۔اس میں بہت سے کاغذ نکلتے آتے تھے لیکن اصل بات جس کی خبر دی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی۔آخر کار لفافہ میں صرف ایک دو کاغذ رہ گئے۔لیکن اصل خبر کا پتا نہ لگا۔میاں بشیر احمد صاحب نے کہا پتا نہیں چودھری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔۔وہ ایک اہم خبر لکھتے ہیں لیکن اسے اچھی طرح بیان نہیں کرتے۔میں نے کہا گھبراہٹ میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔اس پر لفافہ میں دو کاغذ جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ کو میں نے باہر کھینچا تو وہ ایک فہرست تھی۔لیکن اصل واقعہ کا اُس سے پتا نہیں لگتا تھا۔اس فہرست میں ایک نام سے پہلے ملک لکھا تھا اور آخر میں محمد لکھا تھا۔درمیانی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا۔اس سے اتنا تو پتا لگتا تھا کہ واقعہ میں کوئی اہم خبر ہے لیکن اصل واقعہ کا