خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 403

$1954 403 خطبات محمود رکھی جاسکتی ہے)۔اس طرح آرام کے لیے وقفہ زیادہ ہو جائے گا اور سننے والوں کے لیے سہولت پیدا ہو جائے گی۔پھر بیشک لوگوں پر سختی کی جائے کہ وہ تقاریر کے دوران میں جلسہ گاہ سے باہر نہ جائیں۔اس کے بعد جس طرح پہلے بعض لوگ اقامت گاہوں میں جا کر تقاریر کیا کرتے تھے اُسی طرح اب بھی ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت میں بابا حسن محمد صاحب والد مولوی رحمت علی صاحب کو اس قسم کی تقاریر کا بہت شوق تھا۔اللہ بخش صاحب بسے ہالی کے ایک شاعر تھے۔اُن کو بھی تقریر کرنے کا بہت شوق تھا۔اسی طرح بعض اور دوست تھے انہیں بھی تقریر کرنے کا شوق ہوتا تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ یہ لوگ اقامت گاہوں میں چلے جاتے اور تقریر شروع کر دیتے۔اسی طرح اب بھی شائقین یا کسی پروگرام کے ماتحت بعض لیکچرار اقامت کی گاہوں میں چلے جائیں اور وہاں تقاریر کریں تو کوئی حرج نہیں۔کیونکہ اس قسم کی تقاریر کو سنانی لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔بہر حال زمانہ کے بدلنے کا لحاظ رکھنا چاہیے۔اب زائرین جلسوں سے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کو آرام سے دیر تک نہیں بٹھایا جا سکتا۔اور لوگوں لیے زیادہ سے زیادہ سہولت مہیا کرنی چاہیے تا کہ وہ جلسہ کے پروگرام سے صحیح طور ہے فائدہ اُٹھا سکیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ابتدا میں جلسہ پر آنے والی عورتوں کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی مگر اب عورتیں زیادہ تعداد میں آتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ بچوں کی تعداد بھی بہت ہوتی ہے۔اُن کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے فرمایا شیشوں کا لحاظ رکھو۔4 مطلب یہ تھا کہ عورتیں ساتھ ہیں تم ان کا لحاظ رکھو۔بچے عورتوں سے بھی زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔وہ معمولی بدہضمی اور ہوا لگنے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ان کا بھی لحاظ ہونا چاہیے۔غرض ہمیں اپنے پروگرام میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ دینی سپرٹ کی وجہ سے خاصا وقت دین میں صرف ہونا چاہیے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ لوگوں کو آرام کا موقع ہی نہ دیا جائے۔پھر باہر سے آنے والوں کو بھی میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے غیر احمدی رشتہ داروں اور دوستوں کو اپنے ساتھ لائیں۔میں نے اس کے متعلق پہلے بھی نصیحت کی تھی