خطبات محمود (جلد 35) — Page 294
$1954 294 خطبات محمود کچھ نہ کچھ رقم بھی دے دی جایا کرے۔لیکن باوجود اس کے کہ واقفین کے لیے گزارے مقرر کیے گئے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ اول تو لوگ وقف میں آتے ہی نہیں اور اگر آ جاتے ہیں تو شروع شروع میں وظیفے لیتے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو مختلف بہانے بنا کر وقف سے بھاگ جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہمیں اب ہمارے حالات اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں زیادہ عرصہ تک رہیں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے حالات پہلے کیوں اجازت دیتے تھے کہ وقف میں آئیں اور بعد میں کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وقف میں رہیں۔جب وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو اگر وہ میٹرک پاس تھے تو زیادہ سے زیادہ انہیں اتنی نوے روپے تنخواہ مل سکتی تھی لیکن جب وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو جاتے ہیں اور اُن میں قابلیت پیدا ہو جاتی ہے تو انہیں کسی جگہ سے تین سو ساڑھے تین سو کی آفر (Offer) آ جاتی ہے۔یہ آفر اس لیے آتی ہے کہ سلسلہ نے اُن پر خرچ کیا ہوتا ہے۔اس سے پہلے وہ عملاً یا عقلاً اسی یا سو روپیہ کما سکتے تھے لیکن پھر وہ کہتے ہیں کہ ہمارے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم وقف میں رہیں۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ قابل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ قابلیت صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ سلسلہ - اُن پر روپیہ خرچ کیا اور اُن کی مالی امداد کی۔پھر جن کو ہم نے امداد نہیں دی بلکہ وہ اپنے اخراجات سے پڑھے ہیں اُن پر بھی ذمہ داری کم نہیں۔وہ بھی اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے سے ہی پڑھے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے پڑھتے۔میرے اپنے بچے ہیں۔میں نے انہیں خود پڑھایا ہے۔اب ایک لڑکا تبلیغ کے لیے انڈونیشیا گیا ہے تو میں اسے اپنی جیب سے خرچ دیتا ہوں اور آئندہ بھی میرا یہی ارادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو جو بچہ بھی تبلیغ کے لیے باہر جائے میں اُس کا خرچ خود ہی برداشت کروں۔لیکن سیدھی بات ہے کہ میرے بچے میرے سامنے تو بول نہیں سکتے۔جب ہم بچے تھے تو ہماری جائیدادیں لا پرواہی کا شکار تھیں اور ہمیں اتنی بھی توفیق نہیں تھی کہ ان کی نگرانی کے لیے پندرہ بیس روپے ماہوار پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔جب زمین کے کاغذات مجھے دیئے گئے تو میں گھبرا گیا کہ ان کا انتظام کیسے کروں گا؟ مجھے کام کا تجربہ نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے