خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 204

$1954 204 خطبات محمود باتیں نہیں کرنی ، اِدھر اُدھر نہیں دیکھنا مگر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض دفعہ صحابہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے کہ اوپر سے ایک شخص آتا اور کہتا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ 1 اور وہ نماز میں ہی جواب دے دیتے کہ وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ۔یا کوئی سجدہ میں دعا کر رہا ہے تو ساتھ والا مشورہ دے رہا ہے کہ یہ دعا بھی ساتھ شامل کر لو 2ے اس کی وجہ یہی ہے کہ اُس وقت مسائل نازل ہو رہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ ہدایت دیتے چلے جاتے تھے۔جب کوئی نماز میں ہی سلام کا جواب دے دیتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ نماز میں جواب نہیں دینا چاہیے 3 اور وہ رُک جاتا۔پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو نماز میں مشورہ دینا شروع کیا اور خیال کیا کہ یہ تو منع نہیں ہو گا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرما دیا۔4 اُن کی مثال ایک چھوٹے بچے کی سی تھی اور تمہاری مثال ایک بڑے آدمی کی سی ہے۔گو وہ درجہ میں تم سے لاکھوں گنے بڑے تھے۔ایک چھوٹا بچہ نماز پڑھتا ہے تو ساتھ ساتھ پوچھتا بھی جاتا ہے کہ اب میں نے کیا کرنا ہے؟ سجدہ میں جاتا ہے تو کہتا ہے اماں! اب کیا کرنا ہے؟ پھر سجدہ سے اٹھتا ہے تو پوچھتا ہے اماں! اب کیا کرنا ہے؟ اور ماں اسے بتاتی جاتی ہے۔اس طرح اُن کو مسائل کا پتا ہی نہیں تھا اور وہ پوچھنے پر مجبور تھے۔پھر بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ابھی آدھا حکم نازل ہوتا تھا اور آدھا نازل ہونے والا ہوتا تھا اس لیے جوں جوں احکام کا نزول ہوتا جاتا آپ بتاتے جاتے۔بہر حال مقابلہ کے لیے دو چیزوں میں مشابہت کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔شرعی نبیوں کے احکام چونکہ نئے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سیکھنے پڑتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ شریعت والے نبی کو اُس کے زمانہ میں ہی حکومت دے دیتا مثلاً زكوة حکومت سے تعلق رکھتی ہے۔اگر حکومت نہیں ہو گی تو لوگوں کو زکوۃ کے مسئلہ کا صحیح طور پر علم نہیں ہوسکتا۔کیونکہ احکام کی عمل سے تشریح ہوتی ہے۔ایک ناواقف انگریز کو اگر کوئی نماز کا رسالہ دے دیتا ہے تو وہ محض اس رسالہ کو دیکھ کر نماز نہیں پڑھ سکے گا۔لیکن تم پڑھ لو گے۔اس لیے کہ تم نے اپنے باپ دادا کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ اگر شرعی نبی کے زمانہ میں ہی دینی احکام کی وضاحت نہ ہوئی تو پچھلے لوگوں کے لیے مصیبہ