خطبات محمود (جلد 35) — Page 203
$1954 203 خطبات محمود اس نے توبہ کی اور اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اور میں نے پھر اس کو جماعت میں شامل کر لیا۔مگر کچھ مدت گزرنے کے بعد اس نے پھر مجھ سے خط و کتابت شروع کر دی کہ مجھے تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔میں کیا کروں؟ گویا لیڈری کی حرص اس میں پھر عود کرنی شروع ہوئی۔پس جہاں تک اس کی شخصیت کا سوال ہے میں اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا۔مگر میں نے اور لوگوں سے بھی ایسے اعتراضات سنے ہیں۔سو پہلی چیز تو یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیشک چودہ پندرہ سال میں فتح ہو گئی۔لیکن ہمیشہ مشابہہ چیزوں سے نتائج نکالے جاتے ہیں۔غیر مشابہ چیزوں سے ہے کوئی نتائج نہیں نکالے جاتے۔مثلاً کوئی کہے کہ انگور کے درخت کی تو ہزار سال عمر ہوتی اور گندم جو ساری دنیا کو اتنا فائدہ پہنچاتی اور لوگوں کا پیٹ بھرتی ہے وہ پانچ مہینے میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔تو ہم کہیں گے کہ گندم اور انگور کی آپس میں مشابہت کیا ہے۔دونوں کا آپس میں کوئی جوڑ ہونا چاہیے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرعی نبی تھے اور شرعی نبی دنیا میں چند ہی گزرے ہیں۔ان کے حالات اور غیر شرعی نبیوں کے حالات میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔شرعی نبی ایک ایسی شریعت لاتا ہے جو دنیا کے لیے بالکل نئی ہوتی ہے۔وہ نئی قسم کی عبادت بتاتا ہے، نئی قسم کا ذکر بتاتا ہے، نئی قسم کے اخلاق بتاتا ہے ، نئی قسم کے اعمال بتاتا ہے۔جن کو لوگ شروع میں سمجھ بھی نہیں سکتے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔مثلاً آج تم میں۔ހނ جاہل سے جاہل آدمی بھی جسے دین کی معمولی سی واقفیت ہو نماز کے موٹے موٹے مسائل بتا دے گا، روزے کے موٹے موٹے مسائل بتا دے گا لیکن حدیثوں کو ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ابو بکر اور عمر بھی سوال کر رہے ہیں کہ يَا رَسُولَ اللہ ! فلاں مسئلہ کس طرح ہے، فلاں مسئلہ کس طرح ہے؟ اب کیا یہ سمجھا جائے گا کہ تم ابو بکر اور عمر سے بھی بڑے ہو؟ ہر جاہل۔ނ جاہل اور گو دن سے گودن انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ نئے نئے مسائل سیکھ رہے تھے اور تم وہ ہو جو اپنے باپ دادا سے ان مسائل پر عمل کرتے چلے آ رہے ہو۔تم نے دیکھا کہ تمہارا باپ اور دادا اور تمہارے دوسرے رشتہ دار اس اس طرح نماز پڑھا کرتے ہیں سو تم بھی اسی طرح نماز پڑھنے لگ گئے۔آج ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے نماز میں