خطبات محمود (جلد 35) — Page 146
خطبات محمود 146 $1954 ہے۔اُن کو بھی ہم تباہی کے گڑھے میں گرا دیں گے۔مومن کا طریق ہمیشہ وسطی ہوتا ہے۔جب وہ کسی میں غلطی دیکھتا ہے تو اُسے نصیحت کرتا ہے۔جب وہ نہیں مانتا تو وہ کہتا ہے میں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔اگر تم نہیں مانتے ان 09 تو تمہاری مرضی۔تیسرے وہ لوگوں کو بتاتا رہتا ہے کہ اس قسم کے کمزور اعمال والے لوگ جماعت کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔یہ تمہیں بتا دیتے ہیں کہ ہمارا مذہب اس کے خلاف ہے۔جو شخص ان تین پہلوؤں کو اختیار کرتا ہے وہ وسطی طریق کو اختیار کرتا ہے۔جو شخص خاموش رہتا ہے اور لوگوں کو بتاتا نہیں کہ فلاں کا فعل سلسلہ اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے وہ مذہب کو بدنام کرتا ہے۔جو شخص دوسرے پر جبر کرتا ہے وہ اُس کے ایمان کو ضائع کرتا اور اس کے اندر ڈر اور خوف پیدا کرتا ہے۔اور جو شخص نصیحت نہیں کرتا وہ ناکردہ گناہ لوگوں کو بھی جہنم میں ڈالتا ہے۔یہ تینوں طریق ہیں جو ایک سچے مومن کو اختیار کرنے چاہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكَرُ اِنْ نَفَعَتِ الذكرى 1 لوگوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ہمیشہ فائدہ پہنچایا کرتی ہے۔اور پھر فرماتا ہے کلَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ ح نصیحت کے یہ معنے نہیں کہ تم لٹھ لے کر دوسروں کے پیچھے دوڑتے پھرو اور اُن کو جبر سے منوانے کی کوشش کرو۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں جو کراچی آیا تھا تو درحقیقت اس غرض کے لیے آیا تھا کہ یہاں علاج کا کوئی پہلو نکل آئے اور کچھ ٹھنڈک کی وجہ سے جسم کو آرام بھی پہنچے کیونکہ عام طور پر سمندر کے کناروں پر موسم نسبتا ٹھنڈا ہوتا ہے مگر اس میں کچھ غلطی ہو گئی کیونکہ ان دنوں یہاں موسم بالعموم گرم ہوتا ہے۔چنانچہ یہاں آنے کی کے بعد گرمی بھی پڑی اور ٹوئیں بھی چلیں جس کی وجہ سے اُس قدر افاقہ نہیں ہوا جس قدر ہونا چاہیے تھا اور چونکہ میں علاج کے لیے آیا تھا اس لیے میری نیت یہی تھی کہ میں کم ملاقاتیں کی کروں گا تا کہ طبیعت پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر وہ احباب جنہوں نے اپنے اخلاص میں قریب آنے کی کوشش کی وہ ملاقات سے محروم رہے۔اور پھر نمازوں میں بھی میں زیادہ نہیں آسکا کیونکہ ضعف کی وجہ سے سیڑھیوں پر چڑھنا، اُترنا ، گھٹنے برداشت