خطبات محمود (جلد 35) — Page 140
$1954 140 خطبات محمود لیکن دیانتداری تو ان کے اپنے اختیار میں ہے۔کام کو محنت سے کرنا اور عمدگی سے سرانجام دینا کی ان کے اپنے اختیار میں ہے۔اگر وہ دیانتداری اختیار کریں، محنت اور ہوشیاری کے ساتھ کام کریں تو ان کی احمدیت کبھی چھپ نہیں سکتی۔فرض کرو ایک شخص یہ نہیں کہتا کہ میں احمدی ہوں لیکن جمعہ کا دن آتا ہے تو وہ نماز کے لیے چل پڑتا ہے۔لوگ اُس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کہاں جمعہ پڑھیں گے؟ اور وہ یہ کہتا ہے احمد یہ ہال میں۔اس پر خود بخود لوگ اس سے کہیں گے کہ اچھا! آپ احمدی ہیں۔اسی طرح خواہ وہ زبان سے نہ کہے کہ میں احمدی ہوں لیکن جب وہ جلسہ سالانہ پر جائے گا تو لوگوں کو خود بخود پتا لگ جائے گا کہ یہ احمدی ہے۔اس طرح اس کا احمدی ہونا کبھی چھپ نہیں سکتا۔پس ملازم پیشہ احباب کو چاہیے کہ وہ اپنا نمونہ ایسا اعلیٰ بنا ئیں کہ لوگ دیکھتے ہی محسوس کرنے لگیں کہ ان لوگوں میں اور دوسرے لوگوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔مثلاً اگر وہ پاکستان کے لیے دوسروں سے زیادہ غیرت رکھتا ہے، مسلمانوں کی دوسروں سے زیادہ خیر خواہی کرتا ہے، ان کی تکالیف میں دوسروں سے زیادہ ہمدردی کرتا ہے تو ہر شخص دوسرے سے خود بخود پوچھے گا کہ یہ کونسا پاکستانی ہے جو پاکستان کی حفاظت کے لیے دوسروں سے زیادہ قربانی کرنے کے لیے تیار ہے؟ اور جب لوگ اسے بتائیں گے کہ یہ احمدی ہے تو بغیر اس کے کہ وہ ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالے خود بخود تبلیغ ہوتی چلی جائے گی اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ جب احمدی اس قسم کے نیکی اور خیر خواہ اور ملک و ملت کے ہمدرد اور جاں نثار ہوتے ہیں تو ہم کیوں نہ احمدی بن جائیں؟ اسی طرح اگر کوئی شخص بیمار ہو گیا ہے اور یہ اُس کے گھر پر جاتا اور اُس کی خدمت کرتا اور اس کی تیمارداری میں حصہ لیتا ہے تو دوسرے کے دل میں خود بخود اس کی محبت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔اور جب کسی موقع پر اس کے اپنے بھائی احمدیوں پر اعتراض کریں گے تو وہ کہے گا کہ تم غلط کہتے ہو۔میں بیمار ہوا تھا تو تم نے تو مجھے پوچھا بھی نہیں۔مگر فلاں احمدی میری رات دن خدمت کرتا رہا۔پس میں کس طرح سمجھ لوں کہ احمدی بُرے ہوتے ہیں۔پس تبلیغ کا راستہ تمہارے لیے بند نہیں۔تم گورنمنٹ کے حکم کے ماتحت اور اخلاقی ذمہ داری کے ماتحت زبان کی سے تبلیغ نہ کرو مگر کیا گورنمنٹ یا اور کوئی شخص تم کو یہ بھی حکم دے گا کہ تم دوسروں سے زیادہ