خطبات محمود (جلد 35) — Page 133
$1954 133 خطبات محمود مگر سل اور دق میں تو جہاں کھانسی ہوئی ، بخار ہوا لوگ ڈاکٹر کے پاس دوڑے چلے جاتے ہی ہیں اور یہاں چونکہ تم اس کو زندہ اور تندرست سمجھتے ہو اس لیے تم بھی رفتہ رفتہ دین میں سست ہو جاتے ہو اور اپنی بیماری کا فکر نہیں کرتے۔کہتے ہو الْحَمدُ لِلہ مجھے احمدیت سے بڑا اخلاص ہے، صرف اتنی بات ہے کہ کبھی کبھی جھوٹ بول لیا کرتا ہوں۔میں بہت ہی فدائی ہوں احمدیت کا اور میں اپنے آپ کو اخلاص اور محبت میں دوسروں سے کم نہیں سمجھتا، صرف اتنی بات ہے کہ میں نماز نہیں پڑھتا۔اس طرح تم بھی مر جاتے ہو اور پھر تمہارا ہمسایہ تم سے اثر قبول کرتا ہے اور وہ بھی مر جاتا ہے۔رفتہ رفتہ وہ مُردوں کی ایک جماعت ہو جاتی ہے جو زندوں کے لباس میں ہوتی ہے اور آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ قومی جدوجہد کو ایسے لوگ بالکل ترک کر دیتے ہیں اور نیکیوں میں آگے قدم بڑھانے کا مادہ ان میں نہیں رہتا۔ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ روحانی موت اور جسمانی موت یہ دونوں متوازی چیزیں ہیں۔روح بھی مرتی ہے اور جسم بھی مرتا ہے۔جب روح مرتی ہے تو خدا کی ناراضگی اور اس سے دوری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور جب جسم مرتا ہے تو سانس رک جاتا ہے، آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، کان سننا بند کر دیتے ہیں اور جسم کی حس و حرکت باطل ہو جاتی ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جسمانی موت سے روحانی موت زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ خدائی ناراضگی اور فرشتوں کی لعنت یہ بڑا بھاری عذاب ہے۔لیکن جسمانی موت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جسمانی موت پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں چلو! تمہیں خدا اپنے انعامات دینے کے لیے بلا رہا ہے اور جنت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور آسمانی وجود اس کے لیے دعائیں کرتے اور اسے سلام کہتے ہیں۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ جہاں وہ جسمانی موت سے اتنا گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں وہاں وہ روحانی موت سے بھی اُتنا ہی گھبرائیں اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔، ابھی پرسوں کی بات ہے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ یہاں جو احمدی فوجی افسر یا نیوی کے افسر ہیں وہ قطعی طور پر کوئی چندہ نہیں دیتے۔مجھے یہ سن کر بڑا تعجب آیا کہ جب میں یہاں آتا ہوں تو وہ شوق سے میرے آگے آ جاتے ہیں اور میرے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں